حدیث نمبر: 1594
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَ، فَقَالَ: «اقْضِ عَنْهَا»
مظاہر امیر خان
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ماں کے نذر کے بارے میں سوال کیا جو مرنے سے پہلے پوری نہ کر سکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے نذر پوری کرو۔“
حدیث نمبر: 1595
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ”میری والدہ مر گئی ہے اور وصیت نہیں کی، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 1596
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ ابْنَ أُمِّ سَعْدٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «اسْقِ الْمَاءَ» قَالَ: فَجَعَلَ صِهْرِيجَيْنِ بِالْمَدِينَةِ. قَالَ الْحَسَنُ: فَرُبَّمَا سَعَيْتُ بَيْنَهُمَا وَأَنَا غُلَامٌ
مظاہر امیر خان
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میری والدہ فوت ہو گئی ہے، کیا ان کی طرف سے صدقہ کرنے سے انہیں نفع ہوگا؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر فرمایا: ”سب سے افضل صدقہ پانی پلانا ہے۔“ تو انہوں نے مدینہ میں دو حوض بنا دیے۔
حدیث نمبر: 1597
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ , أَفَأُوصِي عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان
ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”میری ماں بغیر وصیت کیے فوت ہو گئی ہے، کیا میں ان کی طرف سے وصیت کر سکتی ہوں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 1598
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ يُؤْمَرُ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ، إِلَّا وَأَهْلُهُ مَحْقُوقُونَ أَنْ يُوصُوا عَنْهُ»
مظاہر امیر خان
ابن طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”اگر کوئی شخص وصیت کرنے کا حکم ہونے کے باوجود وصیت نہ کرے تو اس کے اہل پر لازم ہے کہ اس کی طرف سے وصیت کریں۔“
حدیث نمبر: 1599
سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: وَسُئِلَ طَاوُسٌ عَنْ صَدَقَةِ الْحَيِّ عَنِ الْمَيِّتِ، قَالَ: بَخٍ، أَعْجَبَهُ
مظاہر امیر خان
طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ زندہ آدمی مردے کی طرف سے صدقہ کرے تو کیسا ہے؟ فرمایا: ”بہت اچھی بات ہے۔“
حدیث نمبر: 1600
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَذْرٍ، كَانَ عَلَى أُمِّهِ مِنِ اعْتِكَافٍ وَمَاتَتْ قَالَ: «صُمْ عَنْهَا وَاعْتَكِفْ عَنْهَا»
مظاہر امیر خان
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”اگر کسی کی والدہ پر اعتکاف کا نذر ہو اور وہ فوت ہو جائے تو اس کی طرف سے اعتکاف کرو اور روزہ رکھو۔“
حدیث نمبر: 1601
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مُصْعَبٍ، أَنَّ عَائِشَةَ «اعْتَكَفَتْ عَنْ أَخِيهَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَعْدَ مَا مَاتَ»
مظاہر امیر خان
عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی عبدالرحمٰن کی طرف سے ان کی وفات کے بعد اعتکاف کیا۔