حدیث نمبر: 1559
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «إِذَا أَعْطَى الرَّجُلُ الْعَطِيَّةَ حِينَ يَضَعُ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ لِلسَّفَرِ فَهُوَ وَصِيَّةٌ مِنَ الثُّلُثِ»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص سفر کے وقت (یعنی رکاب میں پاؤں رکھتے وقت) عطیہ دے تو وہ وصیت شمار ہو گی اور تہائی مال سے لی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 1560
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «تَجُوزُ وَصِيِّتُهُ وَلَا يَكُونُ فِي الثُّلُثِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مسافر کی وصیت جائز ہے اور وہ تہائی میں محدود نہیں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1561
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ: فِي الْمُسَافِرِ «مَا صَنَعَ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ» قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مسافر جو بھی کرے وہ اس کے تمام مال میں جاری ہو گا، اور یہی صحیح قول ہے۔“
حدیث نمبر: 1562
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: «مَا صَنَعَتِ الْحَامِلُ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ مِنَ الثُّلُثِ»
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حاملہ عورت جو بھی مال دے وہ تہائی میں شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1563
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، قَالَ: أَرْسَلَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَيْثُ أُخِذَ فِي الظِّنَّةِ قَالَ: إِيتِ الْحَسَنَ فَسَلْهُ عَنْ حَالِي فِيمَا أُحْدِثُ فِي مَالِي أَمِنَ الثُّلُثِ أَمْ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ؟ فَأَتَيْتُ الْحَسَنَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «مَا أُحْدِثَ فِي مَالِهِ فِي حَالِهِ فَهُوَ فِي الثُّلُثِ هُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمَرِيضِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص بیماری میں اپنے مال میں تصرف کرے وہ مریض کے حکم میں ہوگا، اور اس کا مال تہائی میں محدود ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1564
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: «مَا أَعْطَتِ الْحُبْلَى فَثُلُثُهُ لِزَوْجِهَا أَوْ لِبَعْضِ مَنْ يَرِثُهَا فِي غَيْرِ الثُّلُثِ وَذَلِكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ نَصِيبِهَا أَوْ مِنْ نَصِيبِهِ، شَكَّ الشَّيْخُ»
مظاہر امیر خان
قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کچھ حاملہ عورت دے، اگر وہ اپنے یا اپنے وارث کے حصے سے نہ ہو تو تہائی میں شمار کیا جائے گا۔“