حدیث نمبر: 1544
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يُوصِي لِلرَّجُلِ بِالْوَصِيَّةِ فَيَمُوتُ الْمُوصَى لَهُ قَبْلَ الْمُوصِي , قَالَ: " الْوَصِيَّةُ لِوَلَدِ الْمُوصَى لَهُ. قَالَ سَعِيدٌ: لَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کسی کے لئے وصیت کرے اور وہ وصیت کرنے والے سے پہلے مر جائے تو وصیت اس مرنے والے کی اولاد کو ملے۔“ لیکن سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس طرح کچھ نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 1545
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يَرْجِعُ إِلَى وَرَثَةِ الْمُوصِي» . قَالَ سَعِيدٌ: أَصَابَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایسی صورت میں وصیت واپس وصیت کرنے والے کے وارثوں کی طرف لوٹتی ہے۔“ سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہی درست بات ہے۔“
حدیث نمبر: 1546
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ ثُمَّ أَفَادَ مَالًا قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ مِنْ مِيرَاثٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ , قَالَ: «لِلَّذِي أَوْصَى لَهُ ثُلُثُ مَالِهِ وَثُلُثُ مَا أَفَادَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنے مال کا تہائی وصیت کرے، پھر مرنے سے پہلے مال حاصل کرے تو جو کچھ بڑھا ہے وہ بھی اسی طرح تہائی میں شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1547
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِوَصِيَّةٍ ثُمَّ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ أُخْرَى فَوَصَيَّتُهُ الْأُخْرَى مِنْهُمَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کسی نے ایک وصیت کی، پھر دوسری وصیت کی، تو آخری وصیت معتبر ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1548
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَأَبِي الشَّعْثَاءِ، وَعَطَاءٍ، قَالُوا: «يُؤْخَذُ بِآخِرِ الْوَصِيَّةِ»
مظاہر امیر خان
طاؤس، ابوالشعثا اور عطاء رحمہما اللہ نے فرمایا: ”آخری وصیت ہی معتبر ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1549
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، قَالَ: نا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، مَوْلَى قُرَيْشٍ قَالَ: قَرَأْتُ وَصِيَّةَ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِذَا هِيَ قَدْ أَوْصَتْ بِأَشْيَاءَ وَإِذَا فِي آخِرِ وَصِيَّتِهَا: «إِنْ أَتَى عَلَى ذُو أَتَى مَا لَمْ أُغَيِّرْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی وصیت میں لکھا تھا کہ: ”اگر میری وصیت میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو تو وہی قائم رہے۔“
حدیث نمبر: 1550
سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ: يَكْتُبُ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ: «إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثُ الْمَوْتِ قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”آدمی اپنی وصیت میں لکھے کہ اگر مجھ پر موت آ جائے قبل اس کے کہ میں اپنی وصیت میں کوئی تبدیلی کروں۔“
حدیث نمبر: 1551
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِوَصِيَّةٍ فِي مَرَضِهِ ثُمَّ بَرَأَ فَلَمْ يُغَيِّرْ وَصِيَّتَهُ تِلْكَ حَتَّى يَمُوتَ بَعْدَ ذَلِكَ جَازَ مَا فِي وَصِيَّتِهِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے مرض میں وصیت کی پھر شفا یاب ہو گیا اور وصیت میں کوئی تبدیلی نہ کی یہاں تک کہ بعد میں فوت ہو گیا تو وصیت نافذ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1552
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ أَوْصَى فِي مَرَضِهِ: إِنَّ حَدَثَ بِي حَدَثٌ - وَهُوَ يَنْوِي فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ - فَغُلَامُهُ حُرٌّ , فَصَحَّ , قَالَ: «إِنْ شَاءَ بَاعَهُ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنے مرض میں وصیت کی کہ اگر مجھ پر موت آئے تو میرا غلام آزاد ہے، پھر صحت یاب ہو گیا تو وہ غلام بیچ سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1553
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «يَرْجِعُ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ كُلِّهَا إِلَّا الْعِتْقَ»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”آدمی اپنی تمام وصیت سے رجوع کر سکتا ہے سوائے آزادی کے۔“
حدیث نمبر: 1554
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔
حدیث نمبر: 1555
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْوَصِيَّةِ لِذِي قَرَابَتِهِ، فَقِيلَ لَهُ: وَإِنْ كَانُوا أَغْنِيَاءَ؟ قَالَ: إِنَّ غَنَاءَهُمْ لَا يَمْنَعُهُمْ مِنَ الْحَقِّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَهُمْ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا امیر لوگوں کے قریبیوں کے لئے بھی وصیت کرنی چاہیے؟ تو فرمایا: ”ان کی دولت ان کے اس حق سے نہیں روکتی جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 1556
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يُوصِ لِذِي قَرَابَتِهِ فَقَدْ خَتَمَ عَمَلَهُ بِمَعْصِيَةٍ»
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو اپنے قریبیوں کے لئے وصیت نہیں کرتا اس نے اپنے عمل کا اختتام معصیت پر کیا۔“
حدیث نمبر: 1557
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: «لَوْ كُنْتُ وَالِيًا فَأُتِيتُ بِرَجُلٍ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَتِهِ رَدَدْتُ ذَلِكَ وَلَوْ بُنِيَتْ بِهِ الدُّورُ وَاتُّخِذَتْ بِهِ الْأَمْوَالُ»
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر میں حکمران ہوتا اور میرے پاس کوئی غیر قریبی کے لئے وصیت لے کر آتا تو میں اسے رد کر دیتا چاہے اس سے محلات بنائے جاتے یا مال جمع ہوتا۔“
حدیث نمبر: 1558
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِنِصْفِ مَالِهِ، وَثُلُثِ مَالِهِ، وَرُبُعِ مَالِهِ؟ قُلْتُ: لَا يَجُوزُ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ قَدْ أَجَازُوا، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: أَمْسَكَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ فَأَخْرَجَ نِصْفَهَا سِتَّةً، وَثُلُثَهَا أَرْبَعَةً، وَرُبُعَهَا ثَلَاثَةً , فَأَقْسَمَ الْمَالَ عَلَى ثَلَاثَةَ عَشَرَ فَلِصَاحِبِ النِّصْفِ سِتَّةٌ، وَلِصَاحِبِ الثُّلُثِ أَرْبَعَةٌ، وَلِصَاحِبِ الرُّبُعِ ثَلَاثَةٌ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے اپنے مال کے نصف، تہائی اور چوتھائی کی وصیت کی تو بارہ درہم فرض کیے جائیں، ان کا نصف چھ درہم، تہائی چار درہم اور چوتھائی تین درہم ہوں گے، پھر مال کو تیرہ حصوں پر تقسیم کیا جائے، پس نصف والے کو چھ، تہائی والے کو چار اور چوتھائی والے کو تین حصے دیے جائیں گے۔“