حدیث نمبر: 1486
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُوسَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ عِدَّةِ امْرَأَةِ الْمُرْتَدِّ قَالَ: «ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ»، قُلْتُ: فَإِنْ قُتِلَ؟ قَالَ: «فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»، قُلْتُ: فَمِيرَاثُهُ؟ قَالَ: «نَرِثُهُمْ وَلَا يَرِثُونَا»
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ مرتد عورت کی عدت کیا ہے؟ فرمایا: ”تین حیض۔“ پوچھا گیا اگر قتل ہو جائے تو؟ فرمایا: ”چار ماہ اور دس دن۔“ پوچھا گیا کہ اس کی میراث کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”ہم ان کی میراث لیتے ہیں اور وہ ہماری میراث نہیں لیتے۔“
حدیث نمبر: 1487
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «مِيرَاثُ الْمُرْتَدِّ لِوَرَثَتِهِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مرتد کی میراث اس کے وارثین کے لئے ہے۔“
حدیث نمبر: 1488
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ بِالْمُسْتَوْرِدِ الْعِجْلِيِّ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى، فَضَرَبَ عُنُقَهُ وَجَعَلَ مِيرَاثَهُ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ سَعِيدٌ: لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَ أَحَدٍ إِلَّا عِنْدَ أَبِي مُعَاوِيَةَ
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مستورد عجلی کو لایا گیا جو اسلام سے مرتد ہو گیا تھا، آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی، اس نے انکار کیا، تو آپ نے اس کی گردن ماری اور اس کی میراث کو اس کے مسلمان وارثین میں تقسیم کیا۔
حدیث نمبر: 1489
سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي أَسِيرٍ تَنَصَّرَ بِأَرْضِ الرُّومِ، فَكَتَبَ: «إِنْ جَاءَ بِذَلِكَ الثَّبَتُ فَاقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ»
مظاہر امیر خان
کسی جزیرہ کے رہنے والے شخص نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ ایک قیدی زمین روم میں عیسائی ہو گیا ہے، تو آپ نے جواب دیا: ”اگر اس کا ثبوت مل جائے تو اس کا مال اس کے وارثوں میں تقسیم کر دو۔“
حدیث نمبر: 1490
سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الرَّجُلِ يَتَنَصَّرُ بِأَرْضِ الرُّومِ قَالَ: «تَعْتَدُّ امْرَأَتُهُ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص زمین روم میں عیسائی ہو جائے تو اس کی بیوی کی عدت تین حیض ہو گی۔“