حدیث نمبر: 1472
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: نا الزُّهْرِيُّ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ الْكِلَابِيُّ: «كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا أَشْيَمَ»
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”دیت عاقلہ پر ہے اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت سے کچھ نہیں ملتا۔“ مگر ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ کر بھیجا کہ اشیم الضبابی کی بیوی کو اس کے خون بہا سے حصہ دو۔“
حدیث نمبر: 1473
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، فَقَدْ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قُتِلَ زَوْجُهَا فَسَأَلَتْ أَنْ يُوَرِّثَهَا مِنْ دِيَتِهِ فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ لَكِ شَيْئًا، ثُمَّ سَأَلَ النَّاسَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ فَقَالَ: «كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا أَشْيَمَ فَوَرَّثَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ»
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اپنے شوہر کی دیت میں سے حصہ مانگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تمہارے لئے کچھ نہیں جانتا۔“ پھر لوگوں سے پوچھا کہ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی علم ہے؟ تو ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشیم الضبابی کی بیوی کو اس کے خون بہا میں وارث بنانے کا حکم دیا تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو وارث بنایا۔
حدیث نمبر: 1474
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ فَقَالَتْ: إِنَّهَا لَا تُعْطَى مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، فَقَالَ: لَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ هُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ بَلَغَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ فَقَالَ: «كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةِ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ أَنْ أُوَرِّثَهَا مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَوَرَّثَهَا عُمَرُ»
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا کہ عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں دیا جاتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”دیت تو عاقلہ کے لئے ہے جو اس کی طرف سے دیت دیتے ہیں، کیا کسی کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم ہے؟“ تو ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشیم الضبابی کی بیوی کو اس کی دیت میں سے وارث بنانے کا حکم دیا تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وارث بنایا۔
حدیث نمبر: 1475
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ زَوْجًا مِنْ دِيَةٍ»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت میں سے شوہر کو وارث بنایا تھا۔“
حدیث نمبر: 1476
سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ: أنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدِّيَةُ عَلَى الْمِيرَاثِ، وَالْعَقْلُ عَلَى الْعَصَبَةِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت ورثاء کے مطابق تقسیم ہو گی اور عقل عاقلہ پر ہے۔“
حدیث نمبر: 1477
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ، أَتَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا؟ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: «الدِّيَةُ تُقْسَمُ عَلَى فَرَائِضِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے وارث ہو گی؟ تو انہوں نے فرمایا: ”دیت اللہ کے مقرر کردہ فرائض کے مطابق تقسیم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1478
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: " الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ أَيَرِثُونَ مِنَ الدِّيَةِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: «أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ نَظَرْتَ الْمُصْحَفَ، يَرِثُ مِنَ الدِّيَةِ كُلُّ وَارِثٍ»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ماں شریک بھائی دیت میں وارث ہوں گے؟ فرمایا: ”تم نے مصحف کو دیکھا ہے، ہر وارث دیت میں وارث ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1479
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: أنا الشَّعْبِيُّ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الدِّيَةُ تُقْسَمُ عَلَى فَرَائِضِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے روایت کیا کہ: ”دیت اللہ کے مقرر کردہ فرائض کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 1480
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: «قَدْ ظَلَمَ مَنْ مَنَعَ بَنِي الْأُمِّ نَصِيبَهُمْ مِنَ الدِّيَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے ماں شریک بھائیوں کو دیت سے محروم کیا اس نے ظلم کیا۔“
حدیث نمبر: 1481
سَعِيدٌ قَالَ: نا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: «ظَلَمَ مَنْ مَنَعَ بَنِي الْأُمِّ نَصِيبَهُمْ مِنَ الدِّيَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے ماں شریک بھائیوں کو دیت میں سے ان کا حصہ نہ دیا اس نے ظلم کیا۔“
حدیث نمبر: 1482
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ لَا يُوَرِّثُ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ مِنَ الدِّيَةِ شَيْئًا "
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ماں شریک بھائیوں کو دیت میں سے کچھ نہیں دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1483
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا يَرِثُ الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ، وَلَا الزَّوْجُ، وَلَا الْمَرْأَةُ مِنَ الدِّيَةِ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ وہ فرماتے تھے: ”ماں شریک بھائی، شوہر اور عورت دیت میں سے کچھ نہیں لیتے۔“
حدیث نمبر: 1484
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «يَرِثُ مِنَ الدِّيَةِ كُلُّ وَارِثٍ مِنْ غَيْرِ الدِّيَةِ إِلَّا الزَّوْجَ وَالْمَرْأَةَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر وارث دیت میں سے وارث ہوتا ہے سوائے شوہر اور عورت کے۔“
حدیث نمبر: 1485
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: نا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «تُقْسَمُ الدِّيَةُ عَلَى مَا يُقْسَمُ عَلَيْهِ الْمِيرَاثُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دیت اس طرح تقسیم ہو گی جس طرح میراث تقسیم ہوتی ہے۔“