حدیث نمبر: 1462
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي سَلَمَةَ الْكِنَانِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثًا فَرَضَهُ اللَّهُ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی مقرر کی ہوئی میراث کو کاٹے گا اللہ اس کی میراث جنت سے کاٹ دے گا۔“
حدیث نمبر: 1463
سَعِيدٌ قَالَ: نَافِعُ بْنُ فَضَالَةَ عَنِ النَّصْرِ بْنِ شُفَيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثًا فَرَضَهُ اللَّهُ قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ فِي الْجَنَّةِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی فرض کی ہوئی میراث کو کاٹے اللہ اس کی جنت کی میراث کو کاٹ دے گا۔“
حدیث نمبر: 1464
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: سُئِلَ مَسْرُوقٌ: أَكَانَتْ عَائِشَةُ تُحْسِنُ الْفَرَائِضَ؟ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ الْأَكَابِرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهَا عَنِ الْفَرَائِضِ»
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرائض (میراث کے حصے) کو اچھی طرح جانتی تھیں؟ تو فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکابر صحابہ کو دیکھا کہ وہ ان سے فرائض کا مسئلہ پوچھتے تھے۔“
حدیث نمبر: 1465
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ، فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ» أَوْ قَالَ: «فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مال کو فرائض کے مطابق تقسیم کرو، جو بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد وارث کو دو۔“
حدیث نمبر: 1466
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ فَإِنْ أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَحِمٍ ذَكَرٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مال کو فرائض کے مطابق تقسیم کرو، اگر فرائض کچھ چھوڑیں تو قریبی مرد رشتہ دار کو دو۔“
حدیث نمبر: 1467
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ فَرِيضَةٍ فَلَمْ يُحْسِنْهَا، ثُمَّ سُئِلَ عَنْ فَرِيضَةٍ فَلَمْ يُحْسِنْهَا فَقَالَ: «لَا بَأْسَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک فرضی تقسیم کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ درست جواب نہ دے سکے، پھر دوبارہ سوال ہوا تو بھی نہ جان سکے، تو فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 1468
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَسَمَ مَالًا بَيْنَ وَلَدِهِ وَخَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَوُلِدَ لَهُ ابْنٌ بَعْدَهُ، فَمَاتَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ إِلَى قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَا: " إِنَّ سَعْدًا قَسَمَ بَيْنَ وَلَدِهِ وَمَا يَدْرِي مَا هُوَ كَائِنٌ وَإِنَّا نَرَى أَنْ تَرُدَّ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ، فَقَالَ قَيْسٌ: مَا أَنَا بِرَادٍّ شَيْئًا فَعَلَهُ سَعْدٌ وَلَكِنَّ نَصِيبِي لَهُ "
مظاہر امیر خان
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا اور شام چلے گئے، وہاں ان کے ہاں ایک اور بیٹا پیدا ہوا، جب سعد فوت ہو گئے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”سعد نے اپنے بچوں میں مال بانٹ دیا تھا اور آنے والے بچے کا علم نہ تھا، ہم چاہتے ہیں کہ اس بچے کو بھی حصہ دیا جائے۔“ قیس نے کہا: ”میں اپنے باپ سعد کے کئے ہوئے فیصلے کو نہیں بدلوں گا، لیکن اپنا حصہ اسے دے دوں گا۔“
حدیث نمبر: 1469
سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَسَمَ مَالَهُ بَيْنَ وَلَدِهِ وَتَرَكَ حَبَلًا لَمْ يَشْعُرْ بِهِ وَمَاتَ فَمَشَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ إِلَى قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ: " أَمَّا أَمْرٌ صَنَعَهُ سَعْدٌ فَلَنْ أُغَيِّرَهُ، وَلَكِنْ أُشْهِدُكَمَا أَنَّ نَصِيبِي لَهُ. قَالَ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَقْسَمَ لَهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا نَجِدُهُمْ كَانُوا يَقْتَسِمُونَ إِلَّا عَلَى كِتَابِ اللَّهِ "
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مال اولاد میں بانٹ دیا جبکہ حمل موجود تھا جسے وہ جانتے نہ تھے، پھر جب سعد فوت ہوئے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”جو سعد نے کیا میں اسے نہیں بدلوں گا، لیکن اپنا حصہ اس بچے کو دوں گا۔“ عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ اللہ کی کتاب کے مطابق مال بانٹتے تھے۔“
حدیث نمبر: 1470
سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَاوُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ، وَلَوْ كُنْتُ مُؤْثِرًا أَحَدًا لَآثَرْتُ النِّسَاءَ عَلَى الرِّجَالِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد کو عطیہ دینے میں برابر سلوک کرو، اگر میں کسی کو ترجیح دیتا تو عورتوں کو مردوں پر ترجیح دیتا۔“
حدیث نمبر: 1471
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
مظاہر امیر خان
یہی حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔