حدیث نمبر: 1453
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولایت کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔“
حدیث نمبر: 1454
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «الْوَلَاءُ بِمَنْزِلَةِ الْحِلْفِ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ، أَقِرُّوهُ حَيْثُ جَعَلَهُ اللَّهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ولایت معاہدہ کی طرح ہے، نہ بیچی جا سکتی ہے نہ ہبہ کی جا سکتی ہے، اسے وہیں رکھو جہاں اللہ نے رکھا ہے۔“
حدیث نمبر: 1455
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ كَالنَّسَبِ أَفَيَبِيعُ الرَّجُلُ نَسَبَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ولایت نسب کی طرح ہے، کیا کوئی شخص اپنا نسب بیچ سکتا ہے؟“
حدیث نمبر: 1456
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولایت اسی کے لئے ہے جس نے آزاد کیا۔“
حدیث نمبر: 1457
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ وَهَبَتْ وَلَاءَ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ مُكَاتَبًا "
مظاہر امیر خان
مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے سلیمان بن یسار کا ولاء ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ہبہ کیا جبکہ وہ مکاتب تھے۔
حدیث نمبر: 1458
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمِيرَاثُ لِلْعَصَبَةِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَصَبَةٌ فَالْوَلَاءُ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میراث عصبات کے لئے ہے، اگر کوئی عصبات نہ ہوں تو ولایت ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1459
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ أَعْتَقَ نَسَمَةً لِوَجْهِ اللَّهِ فَانْطَلَقَ فَوَالَى رَجُلًا قَالَ: «لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَهَبَهُ الْمُعْتِقُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اللہ کی رضا کے لئے غلام آزاد کیا، پھر وہ غلام جا کر کسی اور سے ولایت کر بیٹھا، تو فرمایا: ”ایسا کرنا جائز نہیں، الا یہ کہ معتق خود اسے ہبہ کرے۔“
حدیث نمبر: 1460
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ «أَنَّهُ كَانَ يُجْرِي الْوَلَاءَ مَجْرَى الْمِيرَاثِ»
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ ولایت کو میراث کے برابر شمار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1461
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَالنَّسَبِ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ»
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ولایت نسب کی طرح ایک تعلق ہے، نہ بیچی جا سکتی ہے نہ ہبہ کی جا سکتی ہے۔“