حدیث نمبر: 1400
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ كَانَ يُقَالُ لَهُ: طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ سَائِبَةً فَمَاتَ غُلَامُهُ ذَلِكَ وَتَرَكَ مَالًا فَأُتِيَ بِهِ طَارِقٌ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ، فَكَتَبَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ عَلَى الْيَمَنِ يَوْمَئِذٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: «أَنِ ادْفَعْ إِلَى الرَّجُلِ مَالَ مَوْلَاهُ فَإِنْ قَبِلَهُ فَذَاكَ وَإِلَّا فَاشْتَرِ بِهِ رِقَابًا فَأَعْتِقْهُمْ عَنْهُ، فَلَمَّا جَاءَ الْكِتَابُ دَعَا الرَّجُلَ فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَالَ مَوْلَاهُ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ فَأَشْتَرَى بِهِ سِتَّ عَشْرَةَ أَوْ سَبْعَ عَشْرَةَ رَقَبَةً فَأَعْتَقَهُمْ»
مظاہر امیر خان
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: یمن کے طارق بن مرقع نے اپنا غلام آزاد کیا، غلام مر گیا اور مال چھوڑ گیا، طارق نے لینے سے انکار کیا، یمن کے والی یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو آپ نے جواب دیا: ”اس کے مالک کو دے دو، اگر نہ لے تو مال سے غلام خرید کر آزاد کر دو۔“ پھر سولہ یا سترہ غلام خرید کر آزاد کیے گئے۔
حدیث نمبر: 1401
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا فِي مِيرَاثِ السَّائِبَةِ: «هُوَ لِلَّذِي أَعْتَقَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سائبہ کی میراث اسے ملے گی جس نے اسے آزاد کیا۔“
حدیث نمبر: 1402
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامَهُ سَائِبَةً فَمَاتَ، فَجَاءَ بِمِيرَاثِهِ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَنْتَ أَحَقُّ بِهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: إِنْ شِئْتَ فَاجْعَلْهُ فِي مِثْلِ السَّبِيلِ الَّذِي كُنْتَ جَعَلْتَهُ فِيهِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جو شخص اپنے غلام کو آزاد کرے اور غلام مر جائے، اس کی میراث واپس آزاد کرنے والے کو جائے گی، چاہے تو اسی مصرف میں خرچ کرے جس کے لیے آزاد کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 1403
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٌ، قَالَ: نا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْحَضَرِ حَضَرِ مُحَارِبٍ أَعْتَقَتْ غُلَامًا لَهَا فَقَالَتْ: انْطَلِقْ فَوَالِ مَنْ شِئْتَ فَانْطَلَقَ الْغُلَامُ فَوَالَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَعْمَرٍ فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَخَاصَمَ وَرَثَتُهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَعْمَرٍ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَدَعَاهُ فَأَخْبَرَهُ بِالْقَصَّةِ فَقَالَ لَهُ: «انْطَلِقْ فَوَالِ مَنْ شِئْتَ فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَوَالَاهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا معاملہ آیا، اس نے اپنے غلام کو آزاد کر کے کہا: ”جاؤ، جس کی چاہو، ولایت اختیار کر لو۔“ غلام سیدنا عبدالرحمٰن بن معمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کی ولایت اختیار کی، پھر عورت کا انتقال ہو گیا، تو اس کے وارثوں نے سیدنا عبدالرحمٰن بن معمر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے معاملہ پوچھا تو غلام نے سارا واقعہ بیان کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جاؤ، جس کی چاہو، ولایت اختیار کرو۔“ غلام واپس سیدنا عبدالرحمٰن بن معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کی ولایت اختیار کر لی۔
حدیث نمبر: 1404
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «أَيُّمَا عَبْدٍ أُعْتِقَ سَائِبَةً فَإِنَّمَا أَمْرُهُ بِيَدِهِ يُوَالِي مَنْ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”جس غلام کو سائبہ (آزاد) کر دیا جائے تو اس کا معاملہ اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے، جس کی چاہے، ولایت اختیار کرے۔“
حدیث نمبر: 1405
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَا: «وَلَاءُ السَّائِبَةِ لِمَنْ أَعْتَقَهُ إِنَّمَا سَيَّبَ رَقَبَتَهُ مِنَ الرِّقِّ وَلَمْ يُسَيِّبْهَا مِنَ الْوَلَاءِ»
مظاہر امیر خان
راشد بن سعد رحمہ اللہ اور ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ نے کہا: ”سائبہ غلام کی ولایت اسی کے لئے ہوتی ہے جس نے اسے آزاد کیا، اس نے صرف غلامی سے آزادی دی ہے، ولایت سے آزادی نہیں دی۔“