حدیث نمبر: 1392
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ هَمْدَانَ مِنْ أَحْجَا حَيٍّ بِالْكُوفَةِ يَمُوتُ أَحَدُكُمْ وَلَا يَتْرُكُ عَصَبَةً فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلْيُوصِ بِمَالِهِ كُلِّهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اہلِ ہمدان! تم سب سے زیادہ ایسے ہو کہ تم میں کوئی مر جائے اور عصبہ نہ چھوڑے، لہٰذا چاہیے کہ اپنا مال وصیت کر دے۔“
حدیث نمبر: 1393
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: هُوَ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: «يَا أَبَا مَيْسَرَةَ، إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ هَمْدَانَ يَمُوتُ فِيكُمُ الْمَيِّتُ لَا يُدْرَى مَنْ عَصَبَتُهُ فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلْيَضَعْ مَالَهُ حَيْثُ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابو میسرہ! تمہارے قبیلے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مرنے والے کی عصبہ کا پتہ نہیں چلتا، تو چاہیے کہ اپنے مال کی وصیت کر دے جہاں چاہے۔“
حدیث نمبر: 1394
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: «إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ أَجْدَرِ النَّاسِ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ وَلَا يَدَعَ عَصَبَةً، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلْيَضَعِ الرَّجُلُ مَالَهُ حَيْثُ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اہلِ یمن! تم سب سے زیادہ ایسے ہو کہ مرنے والے کی عصبہ نہ ہو، لہٰذا چاہیے کہ مال کی وصیت کرے جہاں چاہے۔“
حدیث نمبر: 1395
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ لِأَبِي مَعْمَرٍ: «يَا أَبَا مَعْمَرٍ إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ أَهْلِ الْيَمَنِ مِمَّا يَمُوتُ فِيكُمُ الْمَيِّتُ لَا يُدْرَى مَنْ عَصَبَتُهُ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ كَذَلِكَ فَلْيُوصِ مَالَهُ كُلَّهُ حَيْثُ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابو معمر سے فرمایا: ”اے ابو معمر! تم اہلِ یمن ہو، تم میں اکثر مرنے والے کی عصبہ معلوم نہیں ہوتی، لہٰذا جب کوئی تم میں سے مرے تو اپنے مال کی مکمل وصیت کر دے جہاں چاہے۔“
حدیث نمبر: 1396
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ وَهِشَامٌ وَابْنُ عَوْنٍ وَمَنْصُورٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبِيدَةَ: " رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ عَصَبَةٌ تُعْرَفُ، وَلَا لِأَحَدٍ عَلَيْهِ عَقْدٌ أَيُوصِي بِمَالِهِ كُلِّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِنْ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: میں نے عبیدہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ جس کی کوئی عصبہ نہ ہو اور کسی پر کوئی معاہدہ نہ ہو، کیا وہ اپنے سارے مال کی وصیت کر سکتا ہے؟ فرمایا: ”ہاں، اگر چاہے تو۔“
حدیث نمبر: 1397
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبِيدَةَ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُعَاقِدْ أَحَدًا وَلَيْسَتْ لَهُ عَصَبَةٌ تُعْرَفُ أَيُوصِي بِمَالِهِ كُلِّهِ؟ قَالَ: «يُوصِي بِمَالِهِ كُلِّهِ إِنْ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبیدہ رحمہ اللہ سے پوچھا، انہوں نے فرمایا: ”اگر کسی نے معاہدہ نہیں کیا اور عصبہ نہیں پہچانی جاتی، تو چاہے تو اپنے سارے مال کی وصیت کرے۔“
حدیث نمبر: 1398
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ سے اسی طرح نقل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1399
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ مَسْرُوقًا، كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَيْهِ نِعْمَةٌ: «يُوصِي بِمَالِهِ كُلِّهِ إِنْ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مسروق رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”جس پر کسی کا احسان نہ ہو، وہ چاہے تو اپنے سارے مال کی وصیت کرے۔“