حدیث نمبر: 1360
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَدْهَمَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ نَصْرَانِيَّةً وَلَهَا ابْنَةٌ حَنِيفِيَّةٌ، فَمَاتَتِ الِابْنَةُ وَأَسْلَمَتِ الْأُمُّ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ، فَأَتَوْا بَعْضَ قُضَاةِ الْبَصْرَةِ فَوَرَّثُوهَا، ثُمَّ أَتَوَا الْكُوفَةَ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا كَانَتِ الْأُمُّ حِينَ خَرَجَتِ الرُّوحُ مِنَ الِابْنَةِ؟ قَالُوا: نَصْرَانِيَّةً. فَقَالَ: قَدْ وَجَبَ الْمِيرَاثُ لِأَهْلِهِ، وَلَكِنْ لَهَا حَقٌّ، كَمِ الْمَالُ؟ فَقَالُوا: كَذَا وَكَذَا شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ أَدْهَمُ، فَأَعْطَاهَا سِتَّمِائَةٍ "
مظاہر امیر خان
قوم کے کچھ لوگوں نے کہا: ان کی نصرانی عورت فوت ہوئی، بیٹی مسلمان تھی، ماں نے بیٹی کی وفات کے بعد اسلام قبول کیا، بصرہ کے قاضی نے اسے وارث بنایا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نے پوچھا: ”بیٹی کے وقت ماں کا مذہب کیا تھا؟“ کہا: ”نصرانی۔“ فرمایا: ”میراث اصل وارث کو مل چکی، مگر ماں کا حق ہے۔“ پھر اسے چھ سو دیے۔
حدیث نمبر: 1361
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَدْهَمُ أَبُو بِشْرٍ الدَّوْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَاسٌ مِنَ الْحَيِّ أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ مَاتَتْ وَهِيَ حَنِيفِيَّةٌ، وَتَرَكَتْ أُمَّهَا وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ، فَأَسْلَمَتْ أُمُّهَا قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ مِيرَاثُ ابْنَتِهَا، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: " أَلَيْسَ مَاتَتِ ابْنَتُهَا وَأُمُّهَا نَصْرَانِيَّةٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَلَا مِيرَاثَ لَهَا، كَمِ الَّذِي تَرَكَتِ ابْنَتُهَا؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: أَنِيلُوهَا مِنْهُ. فَأَنَالُوهَا مِنْهُ "
مظاہر امیر خان
قوم کے بعض افراد نے بیان کیا: مسلمان بیٹی مری، ماں نصرانی تھی، بعد میں مسلمان ہوئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب بیٹی مری ماں نصرانی تھی، اس کا کوئی میراث نہیں۔“ لیکن مال میں سے کچھ دے دو، پس کچھ دیا گیا۔
حدیث نمبر: 1362
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قَتَادَةَ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ «وَرَّثَ رَجُلًا أَسْلَمَ عَلَى مِيرَاثٍ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو وارث بنایا جو میراث پر اسلام لایا اور تقسیم سے پہلے مسلمان ہو گیا۔
حدیث نمبر: 1363
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَسْلَمَ عَلَى مِيرَاثٍ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَمَنْ أَعْتَقَ عَلَى مِيرَاثٍ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَلَهُ نَصِيبُهُ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو تقسیم سے پہلے اسلام لائے اسے میراث ملتی ہے، جو آزاد ہو تو بھی۔“
حدیث نمبر: 1364
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: «إِذَا مَاتَ وَتَرَكَ ابْنًا مَمْلُوكًا، فَأُعْتِقَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ مِيرَاثُهُ، فَلَهُ مِيرَاثُهُ»
مظاہر امیر خان
ابو الشعثا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ: ”جو شخص مرا اور بیٹا غلام تھا، وہ تقسیم سے پہلے آزاد ہو تو اسے میراث ملتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1365
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: «تَرُدُّ الْمَيِّتَ لِأَهْلِهِ»
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مردے کو اس کے اہل کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1366
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَمَ عَلَى شَيْءٍ فَهُوَ لَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی چیز پر اسلام لایا وہ اس کی ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1367
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَمَ عَلَى شَيْءٍ فَهُوَ لَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی چیز پر اسلام لائے وہ اسی کی ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1368
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ إِذَا مَاتَ وَتَرَكَ أَبَاهُ مَمْلُوكًا قَالَ: «يُشْتَرَى مِنَ الْمَالِ ثُمَّ يُعْتَقُ، وَيُوَرَّثُ مَا بَقِيَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر کوئی مرا اور اس کا باپ غلام ہو تو مال سے اسے خریدا جائے، آزاد کیا جائے، اور باقی مال وراثت ہو۔“
حدیث نمبر: 1369
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مِيرَاثٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَلَمْ يُقْسَمْ، قُسِمَ قِسْمَةَ الْإِسْلَامِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ میراث جو اسلام نے پائی اور تقسیم نہیں ہوئی، اسلامی اصول پر تقسیم ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1370
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ مِيرَاثٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُلُّ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میراث جاہلیت میں تقسیم ہوئی وہ جاہلی اصول پر، اور جو اسلام میں آئی وہ اسلامی اصول پر تقسیم ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1371
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ إِلَّا غُلَامٌ لَهُ هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرا، کوئی وارث نہ تھا سوائے ایک غلام کے جسے اس نے آزاد کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وارث بنایا۔“
حدیث نمبر: 1372
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: «مَاتَ قَيْنٌ فِي خَطِّ بَنِي جُمَحَ وَلَمْ يَتْرُكْ قَرَابَةً إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَمَرَ عُمَرُ أَنْ يُعْطَى الْمَالَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے متعلق حکم دیا جس نے اپنا غلام آزاد کیا تھا کہ: ”اسے مال دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1373
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ كُلَّ مِيرَاثٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَا أَدْرَكَ الْإِسْلَامُ مِنْ مِيرَاثٍ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْإِسْلَامِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ: ”جاہلیت میں تقسیم شدہ میراث جاہلیت پر اور اسلامی میراث اسلام پر ہوگی۔“
وضاحت:
إسماعيل بن عياش یہاں غیر شامی راوی ابن جریج سے روایت کر رہے ہیں → ضعف، ابن جريج مدلس ہیں → عن سے روایت، عطاء کا نبی ﷺ سے سماع نہیں → مرسل
حدیث نمبر: 1374
سَعِيدٌ قَالَ: سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ فِيهِمْ
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ: ”وہ میراث اسلامی اصول پر ہوگی۔“
وضاحت:
إسماعيل بن عياش یہاں غیر شامی (عبد العزيز) سے روایت کر رہے ہیں → ضعیف، عبد العزيز بن عبيد الله → ضعیف، زائدة بن عبد الرحمن → مجہول، نتیجہ: روایت سنداً ضعیف جداً ہے
حدیث نمبر: 1375
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا فَهُوَ مِنْهُمْ»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کسی قوم سے تعلق اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 1376
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «مَنِ انْتَحَلَ دِينًا فَهُوَ مِنْ أَهْلِهِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کسی دین کو اپنائے وہ اسی کے لوگوں میں شمار ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1377
سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّامِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ فَلَهُ وَلَاؤُهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ہاتھ پر کوئی شخص مسلمان ہو جائے تو اس کا ولاء اسی کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 1378
سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ فَهُوَ مَوْلَاهُ يَرِثُهُ، وَيَدِي عَنْهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے وہی اس کا مولا ہے، وہی اس کا وارث ہوگا اور اس کا خون بہا دے گا۔“
حدیث نمبر: 1379
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: نا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ قَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ يَرِثُهُ وَيَعْقِلُ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے تو آپ نے فرمایا: ”وہی اس کا سب سے زیادہ حق دار ہوگا، وہی اس کا وارث ہوگا اور اس کا خون بہا دے گا۔“
حدیث نمبر: 1380
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَاضِي فِلَسْطِينَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”جو شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے؟“ آپ نے فرمایا: ”وہی اس کی زندگی اور موت میں سب سے زیادہ حق دار ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1381
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ النَّبَطِيِّ، يُسْلِمُ فَيُوَالِي الرَّجُلَ قَالَ: «يَرِثُهُ وَيَعْقِلُ عَنْهُ»
مظاہر امیر خان
منصور رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے نصرانی کے بارے میں پوچھا کہ وہ کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے تو فرمایا: ”وہ اس کا وارث ہوگا اور اس کا خون بہا دے گا۔“
حدیث نمبر: 1382
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو مَالِكٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنْ عَقَلَ عَنْهُ وَرِثَهُ، وَإِنْ لَمْ يَعْقِلْ عَنْهُ لَمْ يَرِثْهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی کا خون بہا دے تو اس کا وارث ہوگا، اور اگر نہ دے تو وارث نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1383
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، أَيَرِثُهُ؟ قَالَ: «لَا وَلَا، إِلَّا لِذِي نِعْمَةٍ، مَالُهُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَقْلُهُ أَرَاهُ عَلَيْهِمْ»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جو شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے، کیا وہ اس کا وارث ہوگا؟ فرمایا: ”نہیں، مگر جس نے کوئی احسان کیا ہو، ورنہ اس کا مال مسلمانوں کا ہوگا اور خون بہا ان پر۔“
حدیث نمبر: 1384
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «لَا، إِلَّا لِذِي نِعْمَةٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نہیں، مگر جس پر احسان ہو۔“
حدیث نمبر: 1385
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
خالد بن عبداللہ سے حسن بصری رحمہ اللہ سے اسی جیسی روایت۔
حدیث نمبر: 1386
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: سَأَلْتُ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: " إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَوْمٍ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ فِي خفه الْإِسْلَامِ فَمَاتُوا قَالَ: تُرْفَعُ أَمْوَالُ أُولَئِكَ إِلَى بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ. وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُعَادُّ الْقَوْمَ وَيُعَاقِلُهُمْ، وَلَيْسَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ وَلَا لَهُمْ عَلَيْهِ نِعْمَةٌ، فَاجْعَلْ مِيرَاثَهُ لِمَنْ عَاقَلَ وَعَادَّ "
مظاہر امیر خان
اسماعیل بن عیاش کہتے ہیں: میں نے اسحاق بن عبداللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ: ”جو لوگ خفیہ طور پر اسلام لائے اور مر گئے، ان کے مال بیت المال میں جائیں گے، اور جو شخص کسی قوم میں شامل ہو اور ان کے ساتھ خون بہا دے اور اس کا ان سے کوئی رشتہ یا احسان broadcastsہ ہو، تو اس کا میراث انہیں دے دو۔“
وضاحت:
روایت سنداً ضعیف جداً ہے
إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة کو جمہور محدثین نے متروک قرار دیا: ابن معين: ليس بشيء
ابن حبان: يروي الموضوعات
أحمد بن حنبل: لا يكتب حديثه
إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة کو جمہور محدثین نے متروک قرار دیا: ابن معين: ليس بشيء
ابن حبان: يروي الموضوعات
أحمد بن حنبل: لا يكتب حديثه
حدیث نمبر: 1387
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ «قَضَى فِي رَجُلٍ مِنْ أُولَئِكَ هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَبَنِي مَوَالِيهِ، فَجَعَلَ الْمِيرَاثَ بَيْنَ ابْنَتِهِ وَبَيْنَ بَنِي مَوَالِيهِ»
مظاہر امیر خان
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک شخص کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے بیٹی اور غلام چھوڑے، تو میراث بیٹی اور غلاموں میں تقسیم کر دی۔
حدیث نمبر: 1388
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ «فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُوَالِي قَوْمًا أَنَّ لَهُمْ مِيرَاثَهُ وَجِنَايَتَهُ عَلَيْهِمْ»
مظاہر امیر خان
شعبی اور حکم بن عتیبہ رحمہما اللہ کہتے تھے کہ: ”جو شخص کسی قوم کے ساتھ اسلام لائے، تو ان کے لیے اس کی میراث اور خون بہا ہے۔“
حدیث نمبر: 1389
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1390
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ قَالَ: «لَهُ مِيرَاثُهُ وَيَعْقِلُ عَنْهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”جو شخص اہلِ زمین میں سے کسی کے ہاتھ پر اسلام لائے تو وہی اس کا وارث اور خون بہا دینے والا ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1391
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: «لَهُ أَنْ يَتَحَوَّلَ عَنْهُ إِنْ شَاءَ إِنْ لَمْ يَعْقِلْ عَنْهُ، فَإِذَا عَقَلَ عَنْهُ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَتَحَوَّلَ إِلَى غَيْرِهِ»
مظاہر امیر خان
حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر کسی نے خون بہا دے دیا تو اب اسے دوسرے کی طرف منتقل ہونے کا حق نہیں، اور اگر خون بہا نہ دے تو چاہے تو منتقل ہو جائے۔“