حدیث نمبر: 1350
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: «أَعْتَقَتِ ابْنَةُ حَمْزَةَ رَجُلًا، فَمَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَابْنَةَ حَمْزَةَ، فَأَخَذَتِ ابْنَتُهُ النِّصْفَ، وَأَخَذَتِ ابْنَةُ حَمْزَةَ النِّصْفَ، وَذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
مظاہر امیر خان
عبید بن ابی الجعد رحمہ اللہ نے روایت کی کہ سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے ایک غلام آزاد کیا، وہ مر گیا، اس کی بیٹی اور سیدہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی وارث ہوئیں، دونوں نے آدھا آدھا مال لیا، یہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا۔
حدیث نمبر: 1351
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: كَانَتْ بِنْتُ حَمْزَةَ أُخْتِي لِأُمِّي، فَأَعْتَقَتْ مَمْلُوكًا لَهَا، فَمَاتَ الْمَمْلُوكُ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَابْنَةَ حَمْزَةَ، فَأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ النِّصْفَ، وَابْنَةَ حَمْزَةَ النِّصْفَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی میری سوتیلی بہن تھی، اس نے اپنا غلام آزاد کیا، وہ غلام فوت ہوا اور بیٹی چھوڑ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیٹی اور سیدہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو آدھا آدھا مال دیا۔
حدیث نمبر: 1352
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ وَيَقُولُ: «إِنَّمَا كَانَ طُعْمَةً أَطْعَمَهَا إِيَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مال بطور عطیہ دیا تھا، کوئی لازمی وراثت نہیں تھی۔
حدیث نمبر: 1353
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ شَمُوسَ أَنَّهَا قَاضَتْ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي أَبِيهَا مَاتَ وَتَرَكَهَا وَتَرَكَ مَوَالِيَهُ، «فَأَعْطَاهَا عَلِيٌّ النِّصْفَ، وَأَعْطَى مَوَالِيَهُ النِّصْفَ»
مظاہر امیر خان
شموس نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ کیا کہ والد فوت ہوا اور غلام چھوڑے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے نصف اور غلاموں کو نصف دیا۔
حدیث نمبر: 1354
سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ كِنْدَةَ أَنَّ أَخًا لَهَا تُوُفِّيَ وَلَمْ يَتْرُكْ غَيْرَهَا وَغَيْرَ مَوَالِيهِ، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَقُلْتُ: إِنَّ أَخِي تُوُفِّيَ وَلَمْ يَتْرُكْ غَيْرِي وَغَيْرَ مَوْلَانَا. فَقَالَ: «الْمَالُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ»
مظاہر امیر خان
کِندہ قبیلہ کی ایک عورت نے کہا: ”میرا بھائی فوت ہوا، صرف میں اور ہمارے غلام بچے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئی تو فرمایا: ”مال تم دونوں میں نصف نصف ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1355
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَاخْتُصِمَ، إِلَيْهِ فِي امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَتَرَكَتْ زَوْجَهَا وَابْنَتَهَا وَعَصَبَتَهَا، فَقَالَ الْقَاسِمُ: «لِلزَّوْجِ الرُّبُعُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلِابْنَةِ. وَلَمْ يَجْعَلْ لِلْعَصَبَةِ شَيْئًا. فَأَتَوْا عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ يَوْمَئِذٍ، فَجَعَلَ لِلزَّوْجِ الرُّبُعَ، وَلِلِابِنَةِ النِّصْفَ، وَالرُّبُعَ الْبَاقِيَ لِلْعَصَبَةِ»
مظاہر امیر خان
قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے پاس عورت، اس کا شوہر، بیٹی اور عصبہ کا مقدمہ آیا، قاسم نے کہا: ”شوہر کو چوتھ، باقی بیٹی کو، عصبہ کو کچھ نہیں۔“ پھر عبدالحمید بن عبدالرحمن نے بیٹی کو نصف، شوہر کو چوتھ اور عصبہ کو چوتھ دیا۔
حدیث نمبر: 1356
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْتُصِمَ إِلَيْهِ فِي غُلَامٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَوَالِيَهُ وَأُمَّهُ، فَقَالَ الْقَاسِمُ لِأُمِّهِ: «حَمَلْتِهِ فِي بَطْنِكِ، وَأَرْضَعْتِهِ فِي ثَدْيِكِ، لَكِ الْمَالُ كُلُّهُ»
مظاہر امیر خان
قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے پاس غلام، ماں اور غلاموں کا مقدمہ آیا، قاسم نے ماں سے کہا: ”تم نے پیٹ میں اٹھایا اور دودھ پلایا، مال سارا تمہارا ہے۔“
حدیث نمبر: 1357
سَعِيدٌ قَالَ: نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُوَرِّثُ ذَوِي الْأَرْحَامِ دُونَ الْمَوَالِي. فَقِيلَ: هَلْ كَانَ عَلِيٌّ يُعْطِيهِمْ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ أَشَدَّهُمْ فِي ذَلِكَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رحم کے رشتہ داروں کو وراثت دیتے تھے، غلاموں کو نہیں، پوچھا گیا: ”کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی؟“ کہا: ”وہ سب سے زیادہ سخت تھے۔“
حدیث نمبر: 1358
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَابْنُ مَسْعُودٍ يُوَرِّثَانِ الْأَرْحَامَ دُونَ الْمَوَالِي قِيلَ: فَعَلِيٌّ؟ قَالَ: كَانَ أَشَدَّهُمْ فِي ذَلِكَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما رحم کو وراثت دیتے تھے نہ کہ غلاموں کو، پوچھا گیا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کیا حال تھا؟“ کہا: ”وہ سب سے زیادہ سخت تھے۔“
حدیث نمبر: 1359
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: تُوُفِّيَتْ مَوْلَاةٌ لِإِبْرَاهِيمَ، فَجَاءَتْ قَرَابَةٌ لَهَا مِنْ قِبَلِ النِّسَاءِ، فَأَعْطَاهَا مِيرَاثَهَا، فَجَعَلَتْ تُثْنِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِيهِ حَقًّا لَمَا أَعْطَيْتُكِ»
مظاہر امیر خان
مغیرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ابراہیم رحمہ اللہ کی ایک باندی مری، عورتوں کے رشتہ دار آئے، ابراہیم نے انہیں میراث دی اور کہا: ”اگر مجھے اس میں حق معلوم ہوتا تو نہ دیتا۔“