حدیث نمبر: 1330
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو شِهَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، «أَعْطَى الْعَمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، وَالْخَالَةَ الثُّلُثَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا۔
حدیث نمبر: 1331
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: انْتَهَى إِلَى زِيَادٍ عَمَّةٌ وَخَالَةٌ، فَقَالَ زِيَادٌ: «أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِقَضَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِيهَا، جَعَلَ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ فَجَعَلَ لَهَا الثُّلُثَيْنِ، وَجَعَلَ الْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ فَجَعَلَ لَهَا الثُّلُثَ»
مظاہر امیر خان
عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ پھوپھی اور خالہ کا مقدمہ زیاد کے پاس آیا، زیاد نے کہا: ”میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، انہوں نے پھوپھی کو باپ کا درجہ دے کر دو تہائی دیا اور خالہ کو ماں کا درجہ دے کر ایک تہائی۔“
حدیث نمبر: 1332
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «الْعَمَّةُ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ، وَالْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ، وَبِنْتُ الْأَخِ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَكُلُّ ذِي رَحِمٍ بِمَنْزِلَةِ رَحِمِهِ الَّتِي تَجُرُّهُ، إِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ أَوْ فَرِيضَةٌ»
مظاہر امیر خان
مسروق بن الاجدع رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ فرمایا: ”پھوپھی باپ کے مقام پر ہے، خالہ ماں کے مقام پر ہے، بھائی کی بیٹی بھائی کے مقام پر ہے، اور ہر رشتہ دار اپنی جڑ والے کے مقام پر ہے جب کوئی دوسرا وارث یا فرضی وارث نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1333
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ مَسْرُوقًا، قَضَى فِي عَمَّةٍ وَخَالَةٍ، فَجَعَلَ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ، فَجَعَلَ لَهَا الثُّلُثَيْنِ، وَجَعَلَ الْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ فَجَعَلَ لَهَا الثُّلُثَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے پھوپھی اور خالہ کا فیصلہ کیا، پھوپھی کو باپ کے مقام پر رکھا اور دو تہائی دیا، خالہ کو ماں کے مقام پر رکھا اور ایک تہائی دیا، ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 1334
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا عَرَفَ أُخْتًا لَهُ سُبِيَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَجَدَهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا، وَلَا يَدْرِي مَنْ أَبُوهُ، فَاشْتَرَاهُمَا ثُمَّ أَعْتَقَهُمَا، وَأَصَابَ الْغُلَامُ مُوَيْلًا وَمَاتَ، فَأَتَوَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَذَكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: ائْتِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ فَاسْأَلْهُ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ ارْجِعْ فَأَخْبِرْنِي بِمَا يَقُولُ لَكَ. فَأَتَى عُمَرَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا أَرَاكَ عَصَبَةً وَلَا بِذِي فَرِيضَةٍ. فَرَجَعَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَهُ، فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَفْتَيْتَ هَذَا الرَّجُلَ؟ قَالَ: لَمْ أَرَهُ عَصَبَةً وَلَا بِذِي فَرِيضَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذَا لَمْ تُوَرِّثْهُ مِنْ قِبَلِ الرَّحِمِ، وَلَا وَرَّثْتَهُ مِنْ قِبَلِ الْوَلَاءِ. قَالَ: مَا تَرَى؟ قَالَ: أَرَاهُ ذَا رَحِمٍ وَوَلِيَّ نِعْمَةٍ، وَأَرَى أَنْ تُوَرِّثَهُ. قَالَ: فَوَرَّثَهُ
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے جاہلیت میں اپنی بہن کو پکڑا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، باپ کا علم نہ تھا، انہیں خریدا اور آزاد کیا، لڑکا مالدار ہو کر مر گیا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ۔“ وہ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نہ عصبہ ہو اور نہ فرض والے۔“ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ رحم اور نعمت کا ولی ہے، میں اسے وارث قرار دیتا ہوں۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وارث بنایا۔
حدیث نمبر: 1335
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنْ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ
مظاہر امیر خان
وبَرہ رحمہ اللہ نے روایت کی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے اسی طرح فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 1336
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: وَرَّثَ عُمَرُ خَالًا الْمَالَ كُلَّهُ، وَكَانَ خَالًا وَكَانَ مَوْلًى
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک ماموں کو پورا مال دیا، کیونکہ وہ ماموں اور غلام تھا۔
حدیث نمبر: 1337
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: قِيلَ لِلشَّعْبِيِّ: إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَضَى فِي رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ، فَأَعْطَاهَا الْمَالَ كُلَّهُ. فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: قَدْ كَانَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي عُبَيْدَةَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَفْعَلُهُ
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو عبیدہ بن عبداللہ نے ایک شخص کی بیٹی یا بہن کو کل مال دیا، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”ان سے بہتر لوگ بھی ایسا کرتے تھے، جیسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔“
حدیث نمبر: 1338
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ ابْنَةِ الْأَخِ، أَوْلَى أَوِ الْعَمَّةُ، فَقَالَ: ابْنَةُ الْأَخِ، أَشْهَدُ عَلَى مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ: «أَنْزِلُوهُنَّ مَنَازِلَ آبَائِهِنَّ»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ چچا کی بیٹی مقدم ہے یا پھوپھی؟ انہوں نے کہا: ”چچا کی بیٹی۔“ میں گواہی دیتا ہوں کہ مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انہیں ان کے باپ کے مقام پر رکھو۔“
حدیث نمبر: 1339
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ: الْعَمَّةُ أَحَقُّ بِالْمِيرَاثِ أَوِ ابْنَةُ الْأَخِ؟ قَالَ: وَأَنْتَ لَا تَعْلَمُ؟ ابْنَةُ الْأَخِ، أَشْهَدُ عَلَى مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ: «أَنْزِلُوهُنَّ مَنَازِلَ آبَائِهِنَّ»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے عامر شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ پھوپھی مقدم ہے یا بھتیجی؟ انہوں نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں؟ بھتیجی مقدم ہے۔“ میں گواہی دیتا ہوں کہ مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”انہیں ان کے باپ کے مقام پر رکھو۔“
حدیث نمبر: 1340
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ إِلَى قُبَا يَسْتَخِيرُ اللَّهَ فِي الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ أَنْ لَا مِيرَاثَ لَهُمَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبا کی طرف سوار ہو کر گئے کہ پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اللہ سے خیر طلب کریں، تو اللہ نے نازل فرمایا کہ: ”ان کا کوئی میراث نہیں۔“
حدیث نمبر: 1341
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ قَالَ: تُوُفِّيَ ثَابِتُ بْنُ الدَّحْدَاحَةِ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا وَلَا عَصَبَةً، فَرُفِعَ شَأْنُه0ُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ: «هَلْ تَرَكَ مِنْ أَحَدٍ» ؟ قَالَ: مَا - يَا رَسُولَ اللَّهِ - تَرَكَ أَحَدًا. فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهُ إِلَى ابْنِ أُخْتِهِ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثابت بن دحداحہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ آیا جو نہ کوئی وارث چھوڑ کر گئے نہ عصبہ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال کو ان کے بھانجے ابو لبابہ بن عبدالمنذر کے حوالے کر دیا۔
حدیث نمبر: 1342
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ «كَانَا يُوَرِّثَانِ الْعَمَّةَ وَالْخَالَةَ إِذَا لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُمَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما پھوپھی اور خالہ کو وارث بناتے جب ان کے علاوہ کوئی نہ ہوتا۔
حدیث نمبر: 1343
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «الْأُمُّ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ، وَالْأُخْتُ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ماں اس شخص کی عصبی ہے جس کا کوئی عصبہ نہ ہو، بہن اس شخص کی عصبی ہے جس کا کوئی عصبہ نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1344
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: «مَاتَ إِنْسَانٌ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا عَمَّةً وَخَالَةً، فَأَعْطَى عُمَرُ الْعَمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، وَالْخَالَةَ الثُّلُثَ»
مظاہر امیر خان
زیاد بن ابی مریم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے فوت ہونے پر اس کی پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا۔
حدیث نمبر: 1345
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُفَيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّ رَجُلًا انْقَعَرَ عَنْ مَالٍ لَهُ، فَأَتَتِ ابْنَةُ أُخْتِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ الْمِيرَاثَ، فَقَالَ: «لَا شَيْءَ لَكِ، اللَّهُمَّ مَنْ مَنَعْتَ مَمْنُوعٌ، اللَّهُمَّ مَنْ مَنَعْتَ مَمْنُوعٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جو اپنے ماموں کے مال پر دعویٰ کر رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے کچھ نہیں، اے اللہ! جسے تو نے روکا، وہ محروم ہے۔“
وضاحت:
سند کی تحقیق:، ● إسماعيل بن عياش:، ثقہ ہے لیکن صرف اہلِ شام سے روایت میں معتبر، یہاں وہ غیر شامی (یمنی) راوی: نضر بن شفي سے روایت کر رہے ہیں، اس لیے ان کی روایت ضعیف مانی جاتی ہے جب غیر شامی سے ہو، ● النضر بن شفي:، مجہول الحال راوی، کوئی صریح توثیق موجود نہیں، ● عمران بن سليم:، بہت غیر معروف راوی ہے، بعض محققین نے کہا ہے: "مجهول" یا "مبہم تابعی"، ◄ لہٰذا یہ روایت سنداً ضعیف ہے — اس میں دو مجہول راوی اور إسماعيل بن عياش کی غیر شامی روایت ہے
حدیث نمبر: 1346
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «ذُو السَّهْمِ أَحَقُّ مِمَّنْ لَا سَهْمَ لَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”صاحبِ فرض غیر صاحبِ فرض پر مقدم ہے۔“
حدیث نمبر: 1347
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، وَمَكْحُولٍ، وَعَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: «لَا يَرِثُ ابْنُ أُخْتٍ، وَلَا ابْنَةُ أَخٍ، وَلَا بِنْتُ عَمٍّ، وَلَا خَالٌ، وَلَا عَمَّةٌ، وَلَا خَالَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھانجا، بھانجی، چچا کی بیٹی، خالہ، پھوپھی، ماموں میں سے کوئی وارث نہیں بنتا۔“
حدیث نمبر: 1348
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کا مولا ہوں جس کا کوئی مولا نہ ہو، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“
وضاحت:
مرسل کی حیثیت:، طاوس بن کیسان کا نبی ﷺ سے سماع نہیں، مگر چونکہ سفیان، ابن طاوس، طاوس — سب ثقہ اور محتاط محدثین ہیں، اور یہ روایت دیگر طرق سے بھی معروف ہے (کئی اسانید میں وارد ہوئی ہے)، ◄ تو یہ روایت "حسن لغیره" کے درجے میں ہے۔
حدیث نمبر: 1349
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ»
مظاہر امیر خان
مقدام رضی اللہ عنہ نے سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کے بدلے دیت ادا کرتا ہوں اور اس کا وارث بنتا ہوں، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“