حدیث نمبر: 1312
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ ہی کافر مسلمان کا وارث ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1313
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ» قَالَ سَعِيدٌ: قَالَ هُشَيْمٌ: سَمِعْتُهُ أَوْ أُخْبِرْتُهُ عَنْهُ
مظاہر امیر خان
زہری رحمہ اللہ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔“ سعید نے کہا: ہشیم نے کہا: ”میں نے اسے خود سنا یا مجھے اس کے بارے میں خبر دی گئی۔“
حدیث نمبر: 1314
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى»
مظاہر امیر خان
عمرو بن شعیب نے اپنے والد اور اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مختلف ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔“
حدیث نمبر: 1315
سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى، وَلَا يَحْجُبُ مَنْ لَا يَرِثُ»
مظاہر امیر خان
انس بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دو مختلف ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے، اور جو وارث نہ ہو وہ کسی کو محروم نہیں کر سکتا۔“
حدیث نمبر: 1316
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى»
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مختلف ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔“
حدیث نمبر: 1317
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دو مختلف ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔“
حدیث نمبر: 1318
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «لَا نَرِثُ أَهْلَ الْمِلَلِ وَلَا يَرِثُونَنَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اہلِ ملت کو نہیں وارث بناتے اور نہ وہ ہمیں وارث بناتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1319
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَمْلُوكَهُ»
مظاہر امیر خان
حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا سوائے اس صورت کے کہ وہ اس کا غلام ہو۔“
حدیث نمبر: 1320
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ»
مظاہر امیر خان
حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 1321
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، وَفَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مِيرَاثِ عَمَّةٍ لَهُ يَهُودِيَّةٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ: " أَجِئْتَنِي فِي مِيرَاثِ الْمُغْزِلَةِ بِنْتِ الْحَارِثِ؟ فَقَالَ: أَوَلَسْتُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا؟ قَالَ: أَهْلُ مِلَّتِهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا، لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ "
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اشعث بن قیس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی یہودی پھوپھی کے وراثت کے بارے میں حاضر ہوئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم مغزلہ بنت حارث کی میراث لینے آئے ہو؟“ اشعث نے کہا: ”کیا میں اس کا زیادہ حقدار نہیں؟“ فرمایا: ”اس کے دین والے اس کے زیادہ حقدار ہیں، دو ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔“
حدیث نمبر: 1322
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنبأ دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: بَلَغَ مُعَاوِيَةَ أَنَّ نَاسًا مِنَ الْعَرَبِ مَنَعَهُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ مَكَانُ مِيرَاثِهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «نَرِثُهُمْ وَلَا يَرِثُونَنَا» . فَقَالَ مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ: مَا أُحْدِثَ فِي الْإِسْلَامِ قَضَاءٌ أَعْجَبُ مِنْهُ
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ عرب کے کچھ لوگ صرف اپنے آباء کی وراثت کی وجہ سے اسلام قبول کرنے سے رک گئے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم ان سے وارث بنیں گے، وہ ہم سے وارث نہ ہوں گے۔“ تو مسروق بن اجدع رحمہ اللہ نے کہا: ”اسلام میں اس سے عجیب کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔“
حدیث نمبر: 1323
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُجَالِدٌ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ الْإِسْلَامَ يَضُرُّنِي أَمْ يَنْفَعُنِي؟ قَالَ: بَلْ يَنْفَعُكَ، فَمَا ذَاكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبَاهُ كَانَ نَصْرَانِيًّا، فَمَاتَ أَبُوهُ عَلَى نَصْرَانِيَّتِهِ وَأَنَا مُسْلِمٌ، فَقَالَ إِخْوَتِي وَهُمْ نَصَارَى: نَحْنُ أَوْلَى بِمِيرَاثِ أَبِينَا مِنْكَ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: ايتِنِي بِهِمْ. فَأَتَاهُ بِهِمْ، فَقَالَ: " أَنْتُمْ وَهُوَ فِي مِيرَاثِ أَبِيكُمْ شَرْعٌ سَوَاءٌ وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى زِيَادٍ " أَنْ وَرِّثِ الْمُسْلِمَ مِنَ الْكَافِرِ، وَلَا تُوَرِّثِ الْكَافِرَ مِنَ الْمُسْلِمِ فَلَمَّا انْتَهَى كِتَابُهُ إِلَى زِيَادٍ، أَرْسَلَ إِلَى شُرَيْحٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُوَرِّثَ الْمُسْلِمَ مِنَ الْكَافِرِ، وَلَا يُوَرِّثَ الْكَافِرَ مِنَ الْمُسْلِمِ. وَكَانَ شُرَيْحٌ قَبْلَ ذَلِكَ لَا يُوَرِّثُ الْكَافِرَ مِنَ الْمُسْلِمِ، وَلَا الْمُسْلِمَ مِنَ الْكَافِرِ، فَلَمَّا أَمَرَهُ زِيَادٌ قَضَى بِقَوْلِهِ، فَكَانَ إِذَا قَضَى بِذَلِكَ يَقُولُ: هَذَا قَضَاءُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ "
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ایک شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”اسلام میرے لیے نقصان دہ ہے یا فائدہ مند؟“ فرمایا: ”فائدہ مند۔“ اس نے کہا: ”میرا باپ نصرانی تھا اور نصرانی حالت میں مر گیا اور میں مسلمان ہوں، میرے نصرانی بھائی کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ کے وارث زیادہ حقدار ہیں۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”تم سب وراثت میں برابر ہو۔“ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا زیاد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ: ”مسلمان کو کافر سے وارث بناؤ اور کافر کو مسلمان سے وارث نہ بناؤ۔“ اور جب یہ حکم زیاد کو پہنچا تو اس نے شریح رحمہ اللہ کو بلایا اور انہیں اسی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا، تو شریح رحمہ اللہ نے جب بھی اس طرح فیصلہ کیا تو کہتے: ”یہ امیر المؤمنین کا فیصلہ ہے۔“
حدیث نمبر: 1324
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَمَّا قَضَى مُعَاوِيَةُ بِمَا قَضَى بِهِ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ: مَا أُحْدِثَ فِي الْإِسْلَامِ قَضَاءٌ بَعْدَ قَضَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ قَضَاءِ مُعَاوِيَةَ: «إِنَّا نَرِثُهُمْ وَلَا يَرِثُونَنَا، كَمَا أَنَّ النِّكَاحَ يَحِلُّ لَنَا فِيهِمْ، وَلَا يَحِلُّ لَهُمْ فِينَا»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ جاری کیا تو عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بعد اسلام میں جو فیصلہ مجھے سب سے زیادہ پسند آیا وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ ہے کہ ہم ان کے وارث ہیں اور وہ ہمارے وارث نہیں، جیسے نکاح میں ہم ان کی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں اور وہ ہماری عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے۔“
حدیث نمبر: 1325
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ «لَا يَحْجُبُ بِالْيَهُودِيِّ، وَلَا بِالنَّصْرَانِيِّ، وَلَا بِالْمَجُوسِيِّ، وَلَا بِالْمَمْلُوكِ وَلَا يُوَرِّثُهُمْ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَحْجُبُ بِهِمْ وَلَا يُوَرِّثُهُمْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ فیصلہ کرتے تھے کہ: ”یہودی، نصرانی، مجوسی یا غلام کی وجہ سے کسی وارث کو محروم نہیں کرتے، لیکن ان کو وارث بھی نہیں بناتے۔“ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہیں محروم کرتے مگر وارث نہیں بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 1326
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ «أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ نَصْرَانِيًّا، فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالًا، فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَا تَرَكَ أَنْ يُجْعَلَ فِي بَيْتِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے ایک نصرانی غلام کو آزاد کیا، پھر جب وہ مال چھوڑ کر مر گیا تو آپ نے حکم دیا کہ: ”اس کا چھوڑا ہوا مال بیت المال میں داخل کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1327
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ غُلَامٍ أُمُّهُ أَمَةٌ، وَجَدَّتُهُ أُمُّ أُمِّهِ حُرَّةٌ فَمَاتَ قَالَ: «تَرِثُهُ جَدَّتُهُ»
مظاہر امیر خان
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کیا کہ ان سے ایک لڑکے کے بارے میں پوچھا گیا جس کی ماں باندی تھی اور نانی آزاد تھی، جب وہ لڑکا مر گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس کی نانی اس کی وارث بنے گی۔“
حدیث نمبر: 1328
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ رَأْيُ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَيْهِمْ أَنَّ الْمَمْلُوكَ لَا يَرِثُ، وَلَا يَحْجُبُ، وَأَنَّ الْكَافِرَ لَا يَرِثُ وَلَا يَحْجُبُ، وَأَنَّ مَنْ عُمِّيَ مَوْتُهُ لَا يَرِثُ وَلَا يَحْجُبُ»
مظاہر امیر خان
فقہاء جن پر علم ختم ہوتا تھا ان کی رائے تھی کہ: ”غلام نہ وارث بنتا ہے اور نہ کسی کو محروم کرتا ہے، اور کافر نہ وارث بنتا ہے اور نہ کسی کو محروم کرتا ہے، اور جس کی موت مشتبہ ہو جائے وہ نہ وارث بنتا ہے نہ کسی کو محروم کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1329
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ فِي مُسْلِمٍ أَعْتَقَ نَصْرَانِيًّا فَمَاتَ قَالَ: «لَا يَرِثُهُ»
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک مسلمان نے نصرانی غلام کو آزاد کیا اور وہ مر گیا تو فرمایا: ”وہ اس کا وارث نہ ہوگا۔“