حدیث نمبر: 1304
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زِيَادٍ، مَوْلَى عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ، فَقَالَ: «الْمَالُ لِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ»
مظاہر امیر خان
عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دو چچازاد بھائیوں کا معاملہ پیش کیا گیا جن میں سے ایک ماں شریک بھائی تھا، تو آپ نے فرمایا: ”مال ماں شریک بھائی کو ملے گا۔“
حدیث نمبر: 1305
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ، فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ جَعَلَ الْمَالَ لِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ؟ فَقَالَ: «رَحِمَهُ اللَّهُ، أَمَا إِنَّهُ كَانَ عَالِمًا لَوْ أَعْطَى الْأَخَ مِنَ الْأُمِّ السُّدُسَ، وَقَسَمَ مَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا»
مظاہر امیر خان
عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو چچازاد بھائیوں کا مسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک ماں شریک بھائی تھا، لوگوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مال ماں شریک بھائی کو دے دیا؟ تو فرمایا: ”اللہ ان پر رحم کرے، وہ عالم تھے، اگر وہ ماں شریک بھائی کو چھٹا حصہ دیتے اور باقی دونوں میں تقسیم کرتے تو بہتر تھا۔“
حدیث نمبر: 1306
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتِ ابْنَيْ عَمِّهَا، أَحَدُهُمَا زَوْجُهَا، وَالْآخَرُ أَخُوهَا لِأُمِّهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ " وَقَالَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ: «لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ بَيْنَهُمَا»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا معاملہ لایا گیا جس نے اپنے دو چچازاد بھائیوں کو چھوڑا، ایک اس کا شوہر تھا اور دوسرا ماں شریک بھائی، تو آپ نے فرمایا: ”شوہر کو آدھا مال اور باقی ماں شریک بھائی کو ملے گا۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شوہر کو آدھا، ماں شریک بھائی کو چھٹا حصہ اور باقی ان دونوں میں برابر تقسیم ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1307
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَوْسُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عِقَالٍ، أَنَّ شُرَيْحًا أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتِ ابْنَيْ عَمِّهَا، أَحَدُهُمَا زَوْجُهَا وَالْآخَرُ أَخُوهَا لِأُمِّهَا، فَجَعَلَ لِلزَّوْجِ النِّصْفَ، وَجَعَلَ النِّصْفَ الْبَاقِيَ لِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى شُرَيْحٍ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ: كَيْفَ قَضَيْتَ بَيْنَ هَؤُلَاءِ؟ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَضَى، فَقَالَ لَهُ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ} [الأحزاب: 6] . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَفَلَا أَعْطَيْتَ الزَّوْجَ فَرِيضَتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ النِّصْفَ، وَأَعْطَيْتَ الْأَخَ فَرِيضَتَهُ السُّدُسَ، وَجَعَلْتَ مَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ؟
مظاہر امیر خان
حکیم بن عقال رحمہ اللہ نے کہا: شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک عورت کا معاملہ لایا گیا جس نے اپنے دو چچازاد بھائیوں کو چھوڑا، ایک شوہر اور دوسرا ماں شریک بھائی، تو آپ نے شوہر کو آدھا اور باقی ماں شریک بھائی کو دیا، پھر جب یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو آپ نے شریح رحمہ اللہ کو بلایا، پوچھا: ”تم نے کیسے فیصلہ کیا؟“ شریح رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے «وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ» کی بنا پر کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں چاہیے تھا کہ شوہر کو آدھا اور ماں شریک بھائی کو چھٹا حصہ دیتے اور باقی دونوں میں برابر تقسیم کرتے۔“
حدیث نمبر: 1308
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَضَى بِذَلِكَ، فَقَالَ الزَّوْجُ: إِنِّي عَصَبَةٌ مِثْلُ هَذَا، فَقَالَ شُرَيْحٍ: «لَوْلَا أَنَّكَ زَوْجٌ لَمْ أُعْطِكَ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: شریح رحمہ اللہ نے اسی طرح فیصلہ کیا، تو شوہر نے کہا: ”میں بھی اسی طرح عصبہ ہوں۔“ تو شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر تم شوہر نہ ہوتے تو میں تمہیں کچھ نہ دیتا۔“