حدیث نمبر: 1298
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " أُتِيَ زِيَادٌ بِرَجُلٍ لَهُ قَبُلٌ وَذَكَرٌ، وَلَا يَدْرِي كَيْفَ يُوَرِّثُهُ، فَقَالَ: مَنْ لِهَذَا؟ فَقَالُوا: جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ مَحْبُوسٌ فِي السِّجْنِ، فَجَاءَ يَرْسُفُ فِي قُيُودِهِ، فَقَالَ: قُلْ فِيهِ. فَقَالَ: أَلْزِقُوهُ بِالْحَائِطِ، فَإِنْ بَالَ عَلَيْهِ فَهُوَ رَجُلٌ، وَإِنْ بَالَ عَلَى رِجْلَيْهِ فَهُوَ أُنْثَى "
مظاہر امیر خان
جابر بن زید رحمہ اللہ نے کہا: زیاد کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس کے دونوں اعضا (مردانہ و زنانہ) تھے اور معلوم نہ تھا کہ کیسے وراثت دے، تو کہا: ”اس کا مسئلہ کون حل کرے گا؟“ کہا گیا: جابر بن زید رحمہ اللہ، تو اس کو جیل سے بلایا گیا، وہ بیڑیوں میں چلتے آئے، زیاد نے کہا: ”فیصلہ کرو۔“ تو کہا: ”اسے دیوار کے ساتھ لگاؤ، اگر دیوار پر پیشاب کرے تو مرد ہے، اور اگر اپنی ٹانگوں پر کرے تو عورت ہے۔“
حدیث نمبر: 1299
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ذَكَرْتُ قَوْلَ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: " أَرَأَيْتَ إِنْ بَالَ مِنْهُمَا جَمِيعًا؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي. قَالَ: مِنْ أَيِّهِمَا مَا سَبَقَ "
مظاہر امیر خان
قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے جابر بن زید رحمہ اللہ کا قول سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: ”اگر دونوں راستوں سے بیک وقت پیشاب کرے تو؟“ میں نے کہا: ”معلوم نہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”جس طرف سے پہلے آئے اسی پر حکم ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1300
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ زِيَادًا، كَانَ حَبَسَهُ فِي الظِّنَّةِ، فَاخْتُصِمَ إِلَى زِيَادٍ فِي الْخُنْثَى، فَأَرْسَلَ زِيَادٌ إِلَى جَابِرٍ يَسْأَلُهُ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ، فَقَالَ جَابِرٌ: يَتَّهِمُونَا وَيَحْبِسُونَا، وَيَسْأَلُونَا عَمَّا يَنْزِلُ بِهِمْ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يُوَرِّثَهُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ "
مظاہر امیر خان
جابر بن زید رحمہ اللہ نے کہا: زیاد نے مجھ پر بدگمانی کرتے ہوئے قید کیا، پھر خنثیٰ (ہیجڑا) کے وراثت کے بارے میں فیصلہ مانگا، میں نے کہا: ”ہمیں بدگمان کرتے ہو اور پھر دینی مسئلے میں ہم سے سوال کرتے ہو!“ پھر زیاد کو لکھ بھیجا کہ: ”جس طرف سے وہ پیشاب کرے اس کے مطابق وراثت دے۔“
حدیث نمبر: 1301
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أُتِيَ مُعَاوِيَةُ فِي الْخُنْثَى، فَسَأَلَ مَنْ قِبَلَهُ، فَأُمِرَ أَنْ يُوَرِّثَهُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ "
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس خنثیٰ کا مسئلہ آیا تو ان سے کہا گیا کہ: ”جس طرف سے پیشاب کرے اس کے مطابق وراثت دے۔“
حدیث نمبر: 1302
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنْ فَزَارَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: «الْحَمْدُ اللَّهِ الَّذِي جَعَلَ عَدُوَّنَا يَسْأَلُنَا عَمَّا نَزَلَ بِهِ مِنْ أَمْرِ دِينِهِ، إِنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيَّ يَسْأَلُنِي عَنِ الْخُنْثَى، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ أَنْ يُوَرِّثَهُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ»
مظاہر امیر خان
ایک شیخ سے روایت ہے کہ اس نے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”الحمدللہ جس نے ہمارے دشمنوں کو دین کے مسئلے میں ہم سے سوال کرتے بنایا، معاویہ نے مجھے خنثیٰ کے بارے میں لکھا، تو میں نے جواب دیا کہ جس طرف سے وہ پیشاب کرے اس کے مطابق اس کی وراثت دی جائے۔“
حدیث نمبر: 1303
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا۔