حدیث نمبر: 1215
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: نا الْحَسَنُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، نَشَدَ النَّاسَ فَقَالَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ فَلْيَقُمْ , فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ فَقَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَدٍّ كَانَ فِينَا , قَالَ: كَمْ أَعْطَاهُ؟ قَالَ: أَعْطَاهُ السُّدُسَ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: لَا دَرَيْتَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: ”تم میں سے جس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دادا کے بارے میں علم ہو وہ کھڑا ہو۔“ سیدنا معقل بن یسار المزنی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان ایک دادا کے بارے میں فیصلہ کیا تھا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اسے کتنا دیا تھا؟“ کہا: ”چھٹا حصہ۔“ پوچھا: ”کس کے ساتھ؟“ کہا: ”معلوم نہیں۔“ فرمایا: ”پھر تمہیں کچھ معلوم نہیں۔“
حدیث نمبر: 1216
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطِ، قَالَ سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ: مَا أَعْطَاهُ؟ قَالَ: أَعْطَاهُ سُدُسَ مَالِهِ , قَالَ: مَاذَا مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قَالَ: لَا دَرَيْتَ، وَقَالَ آخَرُ: لِي عِلْمٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَاذَا أَعَطَى الْجَدَّ؟ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَالِهِ , قَالَ: مَاذَا مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: لَا دَرَيْتَ، قَالَ آخَرُ: لِي عِلْمٌ. مَاذَا أَعْطَاهُ؟ أَعْطَاهُ نِصْفَ مَالِهِ، قَالَ: مَاذَا مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قَالَ: لَا دَرَيْتَ، قَالَ آخَرُ: لِي عِلْمٌ. مَا أَعْطَاهُ؟ قَالَ: أَعْطَاهُ الْمَالَ كُلَّهُ , قَالَ: مَاذَا مَعَهُ مِنَ الْوَرَثَةِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ، فَلَمَّا وَضَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْفَرَائِضَ أَعْطَاهُ سُدُسَ مَالِهِ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ، وَأَعْطَاهُ ثُلُثَ مَالِهِ مَعَ الْإِخْوَةِ، وَأَعْطَاهُ نِصْفَ مَالِهِ مَعَ الْأَخِ وَأَعْطَاهُ الْمَالَ كُلَّهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا: ”کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دادا کے بارے میں کچھ سنا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”میں نے۔“ فرمایا: ”کیا دیا تھا؟“ کہا: ”مال کا چھٹا حصہ۔“ پوچھا: ”اس کے ساتھ کون وارث تھے؟“ کہا: ”معلوم نہیں۔“ فرمایا: ”کچھ نہیں جانتے۔“ دوسرے نے کہا: ”میرے پاس علم ہے، دادا کو مال کا تیسرا حصہ دیا۔“ پھر وہی سوال اور جواب۔ تیسرے نے کہا: ”مال کا آدھا دیا۔“ چوتھے نے کہا: ”پورا مال دیا۔“ سب سے عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب معلوم نہیں تو کچھ نہیں جانتے۔“ پھر جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے وراثت کے حصے طے کیے تو دادا کو بیٹے کے ساتھ چھٹا حصہ، بھائیوں کے ساتھ تیسرا حصہ، ایک بھائی کے ساتھ آدھا مال اور اگر کوئی وارث نہ ہو تو پورا مال دیا۔
حدیث نمبر: 1217
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، قَالَ: نا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، «كَانَ يُنْزِلُ الْجَدَّ أَبًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دادا کو باپ کی حیثیت سے شمار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1218
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، «يَجْعَلُ الْجَدَّ أَبًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دادا کو والد کا درجہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1219
سَعِيدٌ قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، «كَانَ يُنْزِلُ الْجَدَّ أَبًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دادا کو والد کے مقام پر رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1220
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ «كَانَ يَجْعَلُ الْجَدَّ أَبًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دادا کو والد کا درجہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1221
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنِ اجْعَلِ الْجَدَّ أَبًا، فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ، جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ: ”دادا کو والد شمار کرو، کیونکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دادا کو والد قرار دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 1222
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، «كَانَ يُنْزِلُ الْجَدَّ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دادا کو والد کے مقام پر رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1223
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُثْمَانَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ «كَانُوا يَجْعَلُونَ الْجَدَّ أَبًا» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «يَرِثُنِي ابْنِي دُونَ أَخِي، وَلَا أَرِثُ ابْنِي دُونَ أَخِيهِ»
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر، سیدنا عثمان اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم دادا کو والد شمار کرتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میرا بیٹا میری وراثت پائے گا نہ کہ میرا بھائی، اور میں بیٹے کا وارث نہیں بنوں گا اس کے بھائی کی موجودگی میں۔“
حدیث نمبر: 1224
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، «جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دادا کو والد قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1225
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: أَمَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ»، فَإِنَّهُ قَضَاهُ أَبًا "
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس امت میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا، تو گویا آپ نے انہیں والد کا درجہ دیا۔“
حدیث نمبر: 1226
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الْجَدُّ أَبٌ، وَقَرَأَ {وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ}
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”دادا والد ہوتا ہے۔“ اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾ ”اور میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔“
حدیث نمبر: 1227
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْقُرْآنِ جَدًّا وَلَا جَدَّةً إِنْ هُمْ إِلَّا الْآبَاءُ ثُمَّ تَلَا {وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ» }
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو چاہے میں اس سے حجر اسود کے پاس مباہلہ کروں گا کہ اللہ عزوجل نے قرآن میں دادا اور دادی کا ذکر نہیں کیا بلکہ سب کو آباء ہی کہا ہے۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾ ”اور میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔“
حدیث نمبر: 1228
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ الْجَدِّ، فَقَالَ: مَا اسْمُكَ؟ فَقَالَ: فُلَانٌ، قَالَ: ابْنُ مَنْ؟ قَالَ: ابْنُ فُلَانٍ، قَالَ: ابْنُ مَنْ؟ قَالَ: ابْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: «مَا أَرَاكَ تَعُدُّ إِلَّا آبَاءً» ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ} . قَالَ: «فَبَدَأَ بِجَدَّيْهِ قَبْلَ أَبِيهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور دادا کے بارے میں سوال کیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا نسب پوچھا، جب وہ تین پشتوں تک بیان کرتا رہا تو فرمایا: ”تم تو صرف آباء ہی گن رہے ہو۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾ ”اور میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔“ اور فرمایا: ”اللہ نے دادا کو والدین پر مقدم رکھا ہے۔“
حدیث نمبر: 1229
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، قَالَ: نا عِمْرَانُ بْنُ الْحَارِثِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْجَدِّ فَقَالَ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ. قَالَ: ابْنُ مَنْ؟ قَالَ: ابْنُ فُلَانٍ. قَالَ: ابْنُ مَنْ؟ قَالَ: ابْنُ فُلَانٍ. قَالَ: «مَا أَرَاكَ تَعُدُّ إِلَّا آبَاءً»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور دادا کے بارے میں سوال کیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا نسب پوچھا اور فرمایا: ”تم تو صرف آباء ہی شمار کر رہے ہو۔“