حدیث نمبر: 1210
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ «أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ عَالَ فِي الْفَرَائِضِ، وَأَكْثَرُ مَا بَلَغَ الْعَوْلُ مِثْلَ ثُلُثَيْ رَأْسِ الْفَرِيضَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پہلے شخص تھے جنہوں نے وراثت میں «عَول» (کمی) کا فیصلہ کیا، اور زیادہ سے زیادہ «عَول» دو تہائی حصے تک پہنچا۔
حدیث نمبر: 1211
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ فِي رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ أَبَوَيْهِ وَابْنَتَيْهِ وَامْرَأَتَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْمَرْأَةِ: «أَرَى ثُمُنَكِ صَارَ تُسْعًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا معاملہ آیا جس نے والدین، دو بیٹیاں اور بیوی چھوڑی تھی۔ آپ نے بیوی سے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارا آٹھواں حصہ نویں حصہ بن گیا ہے۔“
وضاحت:
ابو إسحاق السبيعي (عمرو بن عبد الله الهمداني)، تابعی ثقہ، کثیر الروایہ، کا سیدنا علی بن أبي طالب رضی اللہ عنہ سے سماع (براہ راست روایت سننا) ثابت ہے، اور یہ بات متعدد محدثین و محققین نے نصاً ذکر کی ہے۔
قال يحيى بن معين: سمع من عليّ، وكان في زمانه صغيراً، (سیر أعلام النبلاء، ط: الرسالة، 6/311)
قال ابن حجر: سمع من علي … وذكره ابن سعد في الطبقة الثالثة. (تهذيب التهذيب، ابن حجر، 8/66)
قال يحيى بن معين: سمع من عليّ، وكان في زمانه صغيراً، (سیر أعلام النبلاء، ط: الرسالة، 6/311)
قال ابن حجر: سمع من علي … وذكره ابن سعد في الطبقة الثالثة. (تهذيب التهذيب، ابن حجر، 8/66)
حدیث نمبر: 1212
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَا تَعُولُ فَرِيضَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وراثت میں کوئی «عَول» نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 1213
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ، «أَتَرَوْنَ الَّذِي أَحْصَى رَمْلَ عَالِجٍ عَدَدًا جَعَلَ فِي مَالٍ نِصْفًا وَثُلُثًا وَرُبُعًا؟ إِنَّمَا هُوَ نِصْفَانِ، وَثَلَاثَةُ أَثْلَاثٍ، وَأَرْبَعَةُ أَرْبَاعٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ جس نے عالج کے ریت کے ذروں کو شمار کیا وہ مال میں نصف، تہائی اور چوتھائی رکھے گا؟ وراثت صرف دو آدھوں، تین تہائیوں اور چار چوتھائیوں میں تقسیم ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1214
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّاسَ لَا يَأْخُذُونَ بِقَوْلِي وَلَا بِقَوْلِكَ وَلَوْ مُتُّ أَنَا وَأَنْتَ مَا اقْتَسَمُوا مِيرَاثًا عَلَى مَا نَقُولُ، قَالَ: «فَلْيَجْتَمِعُوا فَلْنَضَعْ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكْنِ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلَ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ، مَا حَكَمَ اللَّهُ بِمَا قَالُوا»
مظاہر امیر خان
میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”لوگ نہ میری بات مانتے ہیں نہ آپ کی، اگر میں اور آپ مر جائیں تو وہ وراثت ہماری کہی ہوئی تقسیم پر نہیں کریں گے۔“ انہوں نے کہا: ”تو آؤ، ہم کعبہ کے پاس ہاتھ رکھ کر بددعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اللہ کی لعنت اس پر ہو، کیونکہ اللہ نے ہمارے کہنے کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“