حدیث نمبر: 1197
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالُوا «فِي الْمُشَرَّكِينَ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ وَمَا بَقِيَ وَهُوَ الثُّلُثُ أَشْرَكُوا فِيهِ بَيْنَ الْأُخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْأُخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ مِنَ الْأُمِّ، وَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”مشرکین کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ شوہر کو نصف ملے، ماں کو چھٹا حصہ، اور باقی مال بھائیوں اور بہنوں میں برابر تقسیم ہو، خواہ وہ باپ اور ماں دونوں کی طرف سے ہوں یا صرف ماں کی طرف سے، اور مرد و عورت برابر ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 1198
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يُشَرِّكُونَ، وَكَانَ عَلِيٌّ لَا يُشَرِّكُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھائیوں اور بہنوں کو شریک کرتے تھے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ شریک نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1199
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ عَلِيٍّ، «أَنَّهُ جَعَلَ لِلزَّوْجِ النِّصْفَ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسَ، وَالثُّلُثَ الْبَاقِيَ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ وَأَسْقَطَ الْإِخْوَةَ وَالْأَخَوَاتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَأَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَشْرَكَ بَيْنَهُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شوہر کو نصف، ماں کو چھٹا حصہ، اور باقی حصہ ماں کی طرف سے بھائیوں کو دیا اور باپ کی طرف سے بھائیوں کو محروم کر دیا، جبکہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سب کو شریک کیا۔
حدیث نمبر: 1200
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ «أَشْرَكَا بَيْنَهُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بھائیوں اور بہنوں کو شریک کیا۔
وضاحت:
سند مرسل و ضعیف ہے، لیکن اثرِ صحابی کی تائید میں معتبر ہو سکتی ہے۔ فقہی مذاہب میں اس نوع کے اقوال پر اختلاف ہے، مگر عمر و ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے اقوال کو وزن حاصل ہے۔
حدیث نمبر: 1201
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عُمَرَ، أَشْرَكَ بَيْنَهُمْ وَقَالَ: «لَا أَحْرِمُهُمْ إِنِ ازْدَادُوا قُرْبًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھائیوں اور بہنوں کو شریک کیا اور فرمایا: ”میں انہیں قرابت کے مزید قریب ہونے کی وجہ سے محروم نہیں کروں گا۔“
وضاحت:
ابن سیرین عن عمر = مرسل: یہ بات اصولِ حدیث میں مشہور ہے۔ امام نووی، ابن عبدالبر، ابن حجر، اور دیگر محدثین نے تصریح کی ہے کہ ابن سیرین کے اقوال عن عمر مرسل ہیں۔
حدیث نمبر: 1202
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ الْمُنْتَشِرِ، قَالَ: «شَهِدْتُ مَسْرُوقًا وَشُرَيْحًا أَشْرَكَا بَيْنَهُمْ»
مظاہر امیر خان
مسروق اور شریح رحمہما اللہ نے بھائیوں اور بہنوں کو شریک کیا۔
حدیث نمبر: 1203
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، " أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ الثُّلُثَ لِلْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ مِنَ الْأُمِّ دُونَ الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ هُشَيْمٌ: فَرَدَدْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ كَانَ زَيْدٌ يُشَرِّكُ بَيْنَهُمْ، قَالَ: فَإِنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَنَا عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ كَمَا قَالَ عَلِيٌّ، فَقُلْتُ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى "
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھائیوں اور بہنوں کے درمیان برابر تقسیم نہیں کرتے تھے۔ میں نے کہا: ”میرے اور تمہارے درمیان ابن ابی لیلی کی رائے میں اختلاف ہے۔“
حدیث نمبر: 1204
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ قَوْلِ زَيْدٍ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: كَانَ زَيْدٌ «يُشَرِّكُ بَيْنَهُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھائیوں اور بہنوں کو برابر شریک کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1205
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، أَنَّ فَرِيضَةً كَانَتْ فِيهِمُ امْرَأَةٌ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا، وَإِخْوَتَهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ وَلِإِخْوَتِهَا مِنَ الْأُمِّ مَا بَقِيَ، تَكَامَلَتِ السِّهَامُ، قَالَ هُزَيْلٌ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ "
مظاہر امیر خان
ایک عورت نے اپنے شوہر، ماں، ماں کے بھائیوں اور باپ و ماں دونوں کے بھائیوں کو چھوڑا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا: ”شوہر کو آدھا، ماں کو تہائی اور باقی ماں کے بھائیوں کو دیا جائے۔“ جب یہ بات سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بتائی گئی تو انہوں نے کہا: ”جب تک یہ عالم (ابن مسعود) تمہارے درمیان ہیں، مجھ سے سوال نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 1206
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ، وَابْنَةَ أَبِيهِ، وَأُخْتَهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ فَأَتَوَا الْأَشْعَرِيَّ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لِابْنَتِهِ النِّصْفُ، وَالنِّصْفُ الْبَاقِي لِلْأُخْتِ، فَأَتَوَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ إِنْ أَخَذْتُ بِقَوْلِ الْأَشْعَرِيِّ وَتَرَكْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِلْأُخْتِ "
مظاہر امیر خان
ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے بیٹی، باپ کی بیٹی اور بہن (باپ و ماں کی طرف سے) چھوڑی۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا: ”بیٹی کو آدھا، اور باقی بہن کو۔“ جب یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بتائی گئی تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے ایسا فیصلہ کیا ہو تو میں گمراہ اور راستے سے بھٹکا ہوا ہوں۔“
حدیث نمبر: 1207
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ: قَضَى مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ بِالنِّصْفِ وَالنِّصْفِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے یمن میں ایک بیٹی اور بہن کے معاملے میں فیصلہ کیا کہ: ”بیٹی کو آدھا اور بہن کو آدھا دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1208
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ سُئِلَ عَنِ ابْنَةٍ وَأُخْتٍ فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ وَأَعْطَى الْأُخْتَ النِّصْفَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب یمن آئے تو بیٹی اور بہن کے وراثت کے بارے میں سوال ہوا، تو انہوں نے: ”بیٹی کو آدھا اور بہن کو آدھا دیا۔“
حدیث نمبر: 1209
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدِ، يَقُولُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: «أَنْتَ رَسُولِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنْ يَقْضِيَ بِذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اس فیصلے کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”تم میرے نمائندے بن کر سیدنا عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ تاکہ وہ بھی اسی طرح فیصلہ کریں۔“