حدیث نمبر: Q1178
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْحَافِظُ أَبُو الْبَرَكَاتِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْمُبَارَكِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الثِّقَةُ أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاقِلَانِيُّ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شَاذَانَ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ السِّجِسْتَانِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ:
مظاہر امیر خان
ہمیں خبر دی شیخ، حافظ، ابو البرکات عبد الوہاب بن المبارک بن احمد بن الحسن الانماطی نے، انہوں نے کہا: ہمیں خبر دی ثقہ ابو طاہر احمد بن الحسن الباقلانی الکرخی رحمہ اللہ نے، انہوں نے کہا: ہمیں خبر دی ابو علی الحسن بن احمد بن ابراہیم بن الحسن بن محمد بن شاذان نے، جن کے سامنے پڑھا گیا اور میں سن رہا تھا۔ انہوں نے کہا: ہمیں خبر دی ابو محمد دعـلج بن احمد بن دعـلج السجستانی نے، انہوں نے کہا: ہمیں خبر دی محمد بن علی بن زید الصائغ نے، انہوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی سعید بن منصور نے۔
حدیث نمبر: 1178
حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَاللَّحْنَ وَالسُّنَّةَ، كَمَا تَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”فرائض، لحن اور سنتیں سیکھو جیسے تم قرآن سیکھتے ہو۔“
حدیث نمبر: 1179
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: «تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ فَإِنَّهَا مِنْ دِينِكُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”فرائض سیکھو کیونکہ یہ تمہارے دین کا حصہ ہے۔“
وضاحت:
إبراهيم النخعي کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، اس لیے اثر مرسل ہے۔ لیکن آثارِ تابعین میں یہ معمولی ضعف ہوتا ہے اور درایتاً قبول کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب مضمون شرعی تعلیم پر ہو۔ أبو معاویہ کی أعمش سے اور ان کی ابراھیم سے سند معروف ہے۔ تدلیس کا اثر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1180
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: أنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمِ الْفَرَائِضَ»
مظاہر امیر خان
سعید نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص قرآن سیکھ لیتا ہے وہ فرائض بھی سیکھے۔“
حدیث نمبر: 1181
سَعِيدٌ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: ثنا قَتَادَةُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ وَأَرَقُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَشَدُّهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ» . وَكَانَ يُقَالُ: أَعْلَمُهُمْ بِالْقَضَاءِ عَلِيٌّ
مظاہر امیر خان
سعید نے قتادہ کے حوالے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابو بکر ہیں، اور اللہ کے معاملے میں سب سے سخت اور نرم دل عمر ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ شرم و حیا والے عثمان ہیں، اور حلال و حرام کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض کے بارے میں سب سے زیادہ ماہر زید بن ثابت ہیں، اور سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے ابی بن کعب ہیں۔“ اور کہا جاتا تھا کہ: ”فیصلوں کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے علی رضی اللہ عنہ ہیں۔“