کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَى لَهُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 1170
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ أَبِي الْأَشْرَسِ، عَنْ مُغِيثِ بْنِ سُمَيٍّ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { طُوبَى لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ } - قَالَ: شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ دَارٍ إِلَّا يُظِلُّهُمْ غُصْنٌ مِنْ أَغْصَانِهَا، فِيهَا مِنْ أَلْوَانِ الثَّمَرِ وَيَقَعُ عَلَيْهَا طَيْرٌ أَمْثَالُ الْبُخْتِ، فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ طَائِرًا دَعَاهُ حَتَّى يَقَعَ عَلَى خِوَانِهِ، فَيَأْكُلُ مِنْ أَحَدِ جَانِبَيْهِ شِوَاءً وَالْآخَرِ قَدِيدًا، ثُمَّ يَطِيرُ فَيَذْهَبُ .
مظاہر امیر خان
مغیث بن سمی رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ﴾ یعنی جنت میں ایک درخت ہے جس کی ہر شاخ ہر گھر والے پر سایہ کرے گی، اس میں ہر قسم کا پھل ہوگا، اور اس پر اونٹوں جیسے پرندے ہوں گے، جب کوئی جنتی کسی پرندے کو کھانا چاہے گا تو وہ اس کے دسترخوان پر آ بیٹھے گا، ایک جانب سے بھنا ہوا ہوگا اور دوسری جانب سے خشک گوشت ہوگا، پھر وہ پرندہ دوبارہ اڑ جائے گا۔
حدیث نمبر: 1171
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ لَتَنْظُرُ إِلَى الطَّيْرِ فَتَشْتَهِيهِ فَيَخِرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ مَشْوِيًّا فَتَأْكُلُ مِنْهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کسی پرندے کو دیکھو گے اور اسے کھانے کی خواہش کرو گے تو وہ تمہارے سامنے بھنا ہوا گر پڑے گا اور تم اسے کھا لو گے۔