کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا» کا بیان
حدیث نمبر: 1147
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا } - قَالَ: اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِنْ قَوْمِهِمْ أَنْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ، وَظَنَّ الْقَوْمُ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ كُذِبُوا، جَاءَ أَمْرُ اللهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ یعنی جب رسول اپنی قوموں سے مایوس ہو گئے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، اور ان کی قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے ان سے جھوٹ کہا ہے، تو اللہ کا حکم آ گیا۔
حدیث نمبر: 1148
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ مِنْ قَوْمِهِمْ أَنْ يُؤْمِنُوا، وَظَنَّ قَوْمُهُمْ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ كُذِبُوا - جَاءَهُمْ نَصْرُنَا، فَنُنْجِي مَنْ نَشَاءُ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اپنی قوموں سے مایوس ہو گئے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، اور ان کی قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے جھوٹ کہا، تو اللہ کی مدد آ گئی اور جسے چاہا نجات دی۔
حدیث نمبر: 1149
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: { وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا } - خَفِيفَةً .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ﴿وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ کو ہلکی قراءت سے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1150
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: { وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا } - خَفِيفَةً .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ کو ہلکی قراءت سے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1151
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا } - قَالَ: لَمَّا أَيِسَتِ الرُّسُلُ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَهُمْ قَوْمُهُمْ، وَظَنَّ قَوْمُهُمْ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ كَذَبُوهُمْ - جَاءَ النَّصْرُ عَلَى ذَلِكَ، فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ یعنی جب رسول اپنی قوموں سے مایوس ہو گئے اور قوموں نے یہ گمان کیا کہ رسولوں نے جھوٹ کہا ہے، تو اللہ کی مدد آ گئی اور جسے چاہا نجات دی گئی۔
حدیث نمبر: 1152
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَرَأْتُ سُورَةَ يُوسُفَ بِحِمْصَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ . فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَوَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتُكَذِّبُ بِالْحَقِّ وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ ! وَاللهِ لَهَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا أَدَعُكَ حَتَّى أَضْرِبَكَ حَدًّا ! قَالَ: فَضَرَبَهُ الْحَدَّ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حمص میں سورہ یوسف کی تلاوت کی، تو ایک آدمی نے کہا: یہ قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا، میں اس کے قریب ہوا تو اس سے شراب کی بدبو محسوس کی، میں نے کہا: تو حق کا انکار کرتا ہے اور شراب پیتا ہے؟ اللہ کی قسم! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھایا ہے، اللہ کی قسم! میں تجھے حد لگا کر چھوڑوں گا، چنانچہ اس پر حد جاری کی گئی۔