کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا الضُّرُّ» کا بیان
حدیث نمبر: 1139
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، فِي قَوْلِهِ: { وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ } - أَيْ قَلِيلَةٍ .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ﴾ یعنی اور ہم تھوڑا سا مال لے کر آئے ہیں، یعنی قلیل مال۔
حدیث نمبر: 1140
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قَلِيلَةٌ، مَتَاعُ الْأَعْرَابِ الصُّوفُ وَالسَّمْنُ .
مظاہر امیر خان
عبد اللہ بن الحارث رحمہ اللہ نے فرمایا: قلیلہ، یعنی کم مال، اور دیہاتیوں کا مال زیادہ تر اون اور گھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1141
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْبِضَاعَةِ الْمُزْجَاةِ، قَالَ: خَلَقُ الْغِرَارَةِ، وَالْجَرِينُ، وَالْحَبْلُ، وَالشَّيْءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ بضاعت مزجاة سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: یہ وہ چیزیں ہیں جو کمزور، خراب، اور ناقص ہوتی ہیں جیسے کہ رگڑ یعنی غریرہ، رشتہ یعنی جرین، رسی یعنی حبل اور دوسری چیزیں جو کمزور یا خراب ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1142
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الطَّوِيلُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: تَصَدَّقْ عَلَيَّ تَصَدَّقَ اللهُ عَلَيْكَ بِالْجَنَّةِ ! قَالَ: إِنَّ اللهَ لَا يَتَصَدَّقُ، وَلَكِنْ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ .
مظاہر امیر خان
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے کہا گیا: صدقہ دے دیجئے، اللہ آپ کو جنت دے! تو آپ نے فرمایا: اللہ صدقہ نہیں دیتا، لیکن وہ صدقہ دینے والوں کو جزا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: لَا تَقُلْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ - إِنَّمَا يَتَصَدَّقُ مَنْ يَبْتَغِي الثَّوَابَ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: تم یہ نہ کہو کہ صدقہ دے دیجئے، کیونکہ صدقہ وہی دیتا ہے جو ثواب کی طلب کرتا ہے۔