کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ» کا بیان
حدیث نمبر: 1128
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ يُوسُفُ { ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ } قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لَهُ: وَلَا حِينَ هَمَمْتَ، قَالَ: { وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ } .
مظاہر امیر خان
حکیم بن جابر رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا یوسف علیہ السلام نے کہا: ﴿ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ﴾ یعنی یہ اس لیے تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس سے خیانت نہیں کی، جبرائیل علیہ السلام نے ان سے کہا: اور نہ اس وقت جب تم نے ارادہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: ﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ یعنی اور میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا، بیشک نفس برائی کا بہت حکم دینے والا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1128
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، لكن يظهر أنه من الإسرائيليات
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»