کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ» کا بیان
حدیث نمبر: 1124
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ بِخُرَاسَانَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ } - مَا كَانَ إِحْسَانُ يُوسُفَ ؟ قَالَ الضَّحَّاكُ: كَانَ إِذَا مَرِضَ إِنْسَانٌ قَامَ عَلَيْهِ، وَإِذَا ضَاقَ أَوْسَعَ لَهُ، وَإِذَا احْتَاجَ جَمَعَ لَهُ .
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ خراسان میں ہمارے ساتھ تھے، ایک آدمی نے ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾ یعنی ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیکوکاروں میں سے دیکھتے ہیں کے بارے میں سوال کیا، کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کا احسان کیا تھا؟ ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس کی تیمارداری کرتے، اور جب کسی کو تنگی پیش آتی تو اس کے لیے کشادگی پیدا کرتے، اور جب کسی کو ضرورت پیش آتی تو اس کی ضرورت پوری کرتے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1124
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال خلف بن خليفة.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»