کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَقَالَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ لِامْرَأَتِهِ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ» کا بیان
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: نَا نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ قَالُوا: قَالَ عَبْدُ اللهِ: مِنْ أَفْرَسِ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ ؛ الْعَزِيزُ الَّذِي اشْتَرَى يُوسُفَ، قَالَ: { عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا } . وَالْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَتْ لِأَبِيهَا فِي مُوسَى: { يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأَمِينُ } . وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ وَلَّى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُمُورَ الْمُسْلِمِينَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین افراد تھے؛ عزیز مصر جس نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو خریدا تو کہا: ﴿عَسَىٰ أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا﴾ یعنی شاید یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں، اور وہ عورت جس نے اپنے والد سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا: ﴿يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ یعنی ابا جان! اسے مزدور رکھ لیجئے، بے شک بہترین مزدور وہی ہے جو طاقتور اور امانتدار ہو، اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ بنایا۔