کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ» کا بیان
حدیث نمبر: 1102
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ - أَوِ الْأَسْوَدِ - عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا، فَاصْنَعْ بِي مَا شِئْتَ ! فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ، ثُمَّ دَعَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ: { وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ } .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے باغ میں ایک عورت کو پایا اور اس سے ہر وہ کام کر لیا جو مرد عورت کے ساتھ کرتا ہے، سوائے اس کے کہ میں نے اس سے جماع نہیں کیا، تو آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرما دیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا، پھر جب وہ شخص جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ﴾ یعنی اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں پر اور رات کے کچھ حصے میں، بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1102
درجۂ حدیث محدثین: هو حديث صحيح أخرجه مسلم من طرق عن سماك.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 526، 4687، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2763، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 312، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1728، 1729، 1730، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 323، 7276، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4468، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3112، 3112 م 1، 3112 م 2، 3114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1398، 4254، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1102، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3727»
حدیث نمبر: 1103
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَسْتَحِبُّ تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ وَيَقْرَأُ: { وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ } .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز عشاء میں تاخیر کو پسند فرماتے اور یہ آیت پڑھتے: ﴿وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ﴾ یعنی اور رات کے کچھ حصے میں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1103
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 162، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1103، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2156»