کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي» کا بیان
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا بِشْرٍ عَنْ قَوْلِهِ: { إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ } - قَالَ: لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ الَّذِينَ وَعَدْتُكَ أَنْ أُنْجِيَهُ مَعَكَ . قَالَ هُشَيْمٌ: ذَكَرَهُ عَنْ رَجُلٍ لَا أَدْرِي هُوَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَوْ غَيْرُهُ .
مظاہر امیر خان
ہشیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو بشر رحمہ اللہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ یعنی یقیناً وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے جن کے نجات دینے کا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ ہشیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے یہ بات کسی شخص سے نقل کی، مگر میں نہیں جانتا کہ وہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ تھے یا کوئی اور۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1090
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح عن أبي بشر، ويبقى الشك في شيخ أبي بشر من هو؟
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: نَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: { عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ } .
مظاہر امیر خان
عثمان بن مطر الشیبانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہمیں ثابت نے، اور انہیں شہر بن حوشب رحمہ اللہ نے، اور انہیں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ﴿عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ یعنی عمل غیر صالح تھا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1091
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف شهر بن حوشب من قبل حفظه، وأما عثمان بن مطر فإنه قد توبع.
تخریج حدیث «أخرجه أبو داود فى (سننه) برقم: 3983، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2931، 2932، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1091، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27161، 27374، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1699، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7020، والطبراني فى(الكبير) برقم: 774»
حدیث نمبر: 1092
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَتَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ { إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ } .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ﴿إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ یعنی بیشک وہ عمل غیر صالح ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1092
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 1093
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: { عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ } سُؤَالُكَ إِيَّايَ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ .
مظاہر امیر خان
قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ یعنی تیرا مجھ سے اس چیز کا سوال کرنا جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1093
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، قَالَ: نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ ابْنَهُ، وَلَكِنَّهُ خَالَفَهُ فِي النِّيَّةِ وَالْعَمَلِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ اس کا بیٹا تھا، لیکن نیت اور عمل میں اس کی مخالفت کی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1094
درجۂ حدیث محدثین: سنده فيه عثمان بن مطر وقتادة وتقدم الكلام عنهما، لكن عثمان بن مطر توبع كما سيأتي، فيبقى الكلام في عنعنة قتادة.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ وَهُشَيْمٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَسْقِي فَلَمْ يَزِدْ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ حَتَّى رَجَعَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا رَأَيْنَاكَ اسْتَسْقَيْتَ ! قَالَ: لَقَدْ طَلَبْتُ الْمَطَرَ بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ الَّذِي يُسْتَنْزَلُ بِهِ الْمَطَرُ، ثُمَّ قَرَأَ: { اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا } { يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا * وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا } .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بارش کے لیے دعا کرنے نکلے اور استغفار کے علاوہ کچھ نہ کیا یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے، لوگوں نے کہا: ہم نے تو آپ کو بارش کے لیے دعا کرتے نہیں دیکھا! تو انہوں نے فرمایا: میں نے بارش آسمان کے ان دروازوں سے طلب کی ہے جس کے ذریعے بارش نازل کی جاتی ہے، پھر یہ آیات تلاوت کیں: ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا﴾ یعنی اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، ﴿يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ یعنی وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، ﴿وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ یعنی اور اے میری قوم! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1095
درجۂ حدیث محدثین: سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف للانقطاع بين الشعبي وعمر رضي الله عنه، ولكن له شاهد صحيح كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1095، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6515، 6516، 6517، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4901، 4902، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8428، 8429، 30099، 30100»