کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: كَانَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: { أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ }، قَالَ: جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَالتَّالِي: التَّابِعُ . وَقَرَأَ: { وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا * وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاهَا } .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أَفَمَنْ كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ﴾ یعنی تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ایک گواہ آئے کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اور تلاوت کرنے والا تابع یعنی پیروی کرنے والا ہے، اور آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا * وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا﴾ یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی، اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1081
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1081، 1082، 1083»
حدیث نمبر: 1082
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ } - قَالَ: جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ﴾ یعنی اور اس کے پیچھے ایک گواہ آئے کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1082
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1081، 1082، 1083»
حدیث نمبر: 1083
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ } - قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ، قَالَ: جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أَفَمَنْ كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ﴾ یعنی تو بھلا جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ﴿وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ﴾ یعنی اور اس کے پیچھے ایک گواہ آئے کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1083
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف الليث بن أبي سليم، وهو صحيح لغيره بالطريقين المتقدمين.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1081، 1082، 1083»
حدیث نمبر: 1084
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ . فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَرَأْتُ فَوَجَدْتُهُ: { وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ } .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جو کوئی بھی میرے بارے میں سنے، خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، اور مجھ پر ایمان نہ لائے، تو وہ دوزخیوں میں سے ہوگا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا، وہ اللہ عزوجل کی کتاب میں ہی موجود ہے، پھر میں نے قرآن پڑھا اور یہ آیت پائی: ﴿وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ﴾ یعنی اور جو کوئی اس کا انکار کرے گا، وہی دوزخ کا ایندھن بنے گا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1084
درجۂ حدیث محدثین: سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف للانقطاع بين سعيد بن جبير وأبي موسى، وهو صحيح لغيره لمجيئه في ((صحيح مسلم)) من حديث أبي هريرة.
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11177، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19845، 19871، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 511، والبزار فى (مسنده) برقم: 3050»