کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: تفسیر سورۃ ہود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے قول «أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ } قَالَ: كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا مَرَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَنَا صَدْرَهُ وَتَغَشَّى بِثَوْبِهِ لِكَيْ لَا يَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مظاہر امیر خان
عبد اللہ بن شداد رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ﴾ یعنی سنو! وہ اپنے سینوں کو دُہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپ جائیں کے بارے میں فرمایا: ان میں سے جب کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرتا تو اپنا سینہ سکوڑ لیتا اور اپنے کپڑے سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیتا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ دیکھ لیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقْرَآنِ: { أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ } .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ دونوں اس آیت کو یوں پڑھتے تھے: «أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ» یعنی سنو! وہ اپنے سینوں کو دُہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپ جائیں، خبردار! جب وہ اپنے کپڑے اوڑھتے ہیں۔