کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلأَهُ زِينَةً» کا بیان
حدیث نمبر: 1075
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: { وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا } إِلَى قَوْلِهِ: { الْعَذَابَ الأَلِيمَ }، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا }، قَالَ: كَانَ مُوسَى يَدْعُو وَهَارُونُ يُؤَمِّنُ، وَالدَّاعِي وَالْمُؤَمِّنُ شَرِيكَانِ .
مظاہر امیر خان
محمد بن کعب رحمہ اللہ نے کہا: جب موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا ﴿وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ یعنی اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زیب و زینت اور مال و دولت عطا کی ہے سے لے کر ﴿الْعَذَابَ الْأَلِيمَ﴾ یعنی دردناک عذاب تک، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا﴾ یعنی تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، انہوں نے کہا: سیدنا موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے اور سیدنا ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے، اور دعا کرنے والا اور آمین کہنے والا دونوں دعا میں شریک ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1075
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال أبي معشر.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»