کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» کا بیان
حدیث نمبر: 1066
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا }، قَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ قَبْلَكَ مُنْذُ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ، قَالَ: هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول ﴿لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ یعنی ان کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نیک خواب ہے، جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے لیے دیکھا جائے۔
حدیث نمبر: 1067
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: { لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا } - قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْهُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، فَهِيَ بُشْرَاهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَبُشْرَاهُ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ یعنی ان کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: تم نے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے جس کے متعلق میں نے کسی کو سوال کرتے نہیں سنا، سوائے ایک شخص کے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نیک خواب ہے، جو مسلمان خود دیکھے یا اس کے لیے دیکھا جائے، یہی اس کی دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے، اور آخرت میں خوشخبری جنت ہے۔
حدیث نمبر: 1068
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّاسِبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَالَ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبوت نہیں، سوائے مبشرات کے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک خواب۔
حدیث نمبر: 1069
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا جبکہ لوگ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں باندھے کھڑے تھے، تو فرمایا: نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف صالح خواب باقی رہ گیا ہے جو مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ یاد رکھو! مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں حالتِ رکوع یا حالتِ سجدہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ پس رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور سجدہ میں دعا میں محنت کرو، کیونکہ دعا قبول ہونے کے زیادہ قریب ہے۔