کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ» کا بیان
حدیث نمبر: 1058
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ } - قَالَ: الزِّيَادَةُ غُرْفَةٌ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ لَهَا أَرْبَعَةُ أَبْوَابٍ، غُرَفُهَا وَأَبْوَابُهَا مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ (جنہوں نے نیکی کی ان کے لئے بہترین بدلہ اور مزید کچھ ہے) کے بارے میں فرمایا: زیادتی ایک موتی کا حجرہ ہے جس کے چار دروازے ہیں، اس کی عمارت اور دروازے سب ایک ہی موتی کے بنے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، قَالَ: الزِّيَادَةُ النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ .
مظاہر امیر خان
عبد الرحمن بن سابط رحمہ اللہ نے کہا: زیادتی اپنے رب عزوجل کے چہرے کی طرف دیکھنا ہے۔
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظِبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الزِّيَادَةِ، قَالَ: الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا .
مظاہر امیر خان
علقمہ رحمہ اللہ سے زیادتی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نیکی کا بدلہ دس گنا دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ: لَيْسَ فِي تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ اخْتِلَافٌ، إِنَّمَا هُوَ كَلَامٌ جَامِعٌ يُرَادُ بِهِ هَذَا وَهَذَا .
مظاہر امیر خان
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سفیان رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: قرآن کی تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں ہے، دراصل وہ جامع کلام ہے جس سے یہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور وہ بھی۔
وضاحت:
سفیان رحمہ اللہ کا یہ قول ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے جو قرآن کی تفسیر میں بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے: جب صحابہ کرام یا تابعین قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کرتے ہیں اور ان میں بظاہر مختلف اقوال آتے ہیں تو یہ اختلاف تضاد والا نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ میں اتنی وسعت اور جامعیت ہوتی ہے کہ ان میں ایک سے زیادہ معانی بیک وقت مراد لیے جا سکتے ہیں۔ جیسے کسی آیت کے اندر ایک حکم، ایک نصیحت اور ایک عبرت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ پس اگر ایک مفسر ایک معنی کو بیان کرے اور دوسرا مفسر دوسرے معنی کو، تو یہ دونوں باتیں درست ہو سکتی ہیں بشرطیکہ دونوں قرآن کے الفاظ اور سیاق کے مطابق ہوں۔
یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تفسیر کرتے وقت ہمیں گھٹا کر ایک ہی مطلب پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آیت کی وسعت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
➤ مثال: آیت: «وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا» [نوح: 17]
کسی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا، اور کسی نے کہا کہ انسان کی روزی مٹی سے پیدا ہوتی ہے (یعنی زمین سے اناج نکلتا ہے)۔ تو دونوں معانی درست ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں قرآن کے مزاج کے مطابق ہیں۔
یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تفسیر کرتے وقت ہمیں گھٹا کر ایک ہی مطلب پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آیت کی وسعت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
➤ مثال: آیت: «وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا» [نوح: 17]
کسی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا، اور کسی نے کہا کہ انسان کی روزی مٹی سے پیدا ہوتی ہے (یعنی زمین سے اناج نکلتا ہے)۔ تو دونوں معانی درست ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں قرآن کے مزاج کے مطابق ہیں۔