کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يُثْبِتُ آيَةً فِي الْمُصْحَفِ حَتَّى يُشْهِدَ عَلَيْهَا رَجُلَانِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَدَّثَهُ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ التَّوْبَةِ: { لَقَدْ جَاءَكُمْ } الْآيَةَ، فَقَالَ: لَا أَسْأَلُكَ عَلَيْهَا بَيِّنَةً، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَثْبَتَهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قرآن میں کسی آیت کو اس وقت تک شامل نہیں کرتے تھے جب تک دو آدمی اس پر گواہی نہ دے دیتے، پس ایک انصاری شخص ان کے پاس آیا اور سورہ توبہ کی آخری دو آیات ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ﴾ یعنی تمہارے پاس اللہ کے رسول آئے کی خبر دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے اس پر کوئی اور گواہی طلب نہیں کرتا، یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے، پس انہوں نے ان آیات کو مصحف میں درج کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1053
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف للانقطاع بين يحيى بن جعدة وعمر
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»