کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا يَصْلُحُ مِنَ الْكَذِبِ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ يَقُولُ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ } .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: نہ سنجیدگی میں جھوٹ درست ہے اور نہ مذاق میں، اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَا يَصْلُحُ مِنَ الْكَذِبِ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ يَقُولُ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ } .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: نہ سنجیدگی میں جھوٹ درست ہے اور نہ مذاق میں، اس کی دلیل اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ فِي جِدٍّ وَلَا هَزْلٍ، وَلَا أَنْ يَعِدَ أَحَدُكُمْ صَبِيَّهُ شَيْئًا ثُمَّ لَا يُنْجِزُهُ لَهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنجیدگی میں بھی جھوٹ درست نہیں اور نہ ہی مذاق میں، اور نہ ہی یہ کہ تم میں سے کوئی اپنے بچے سے کوئی چیز دینے کا وعدہ کرے پھر اسے پورا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا يَصْلُحُ مِنَ الْكَذِبِ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنجیدگی میں بھی جھوٹ درست نہیں اور نہ ہی مذاق میں۔