کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 1037
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ لَهُ: اغْسِلْهُ، وَكَفِّنْهُ وَحَنِّطْهُ، ثُمَّ ادْفِنْهُ، ثُمَّ قَالَ هَذِهِ الْآيَةَ: { مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ * وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأَبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ }، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَلَى كُفْرِهِ تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلهِ، فَتَبَرَّأَ مِنْهُ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا والد نصرانی حالت میں فوت ہو گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے غسل دو، کفن دو اور خوشبو لگاؤ، پھر اسے دفن کر دو، پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ * وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ﴾ یعنی نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی ہوں، اس کے بعد کہ ان پر واضح ہو گیا کہ وہ دوزخی ہیں، اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے، پھر جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ عزوجل کا دشمن ہے تو ابراہیم علیہ السلام اس سے بیزار ہو گئے، پھر فرمایا: جب وہ کفر پر مر گیا تو ابراہیم علیہ السلام پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ عزوجل کا دشمن ہے، تو ابراہیم علیہ السلام نے اس سے براءت اختیار کی۔
حدیث نمبر: 1038
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: { فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ } - قَالَ: لَمَّا مَاتَ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ﴾ یعنی پھر جب اس پر ظاہر ہو گیا کے بارے میں فرمایا: جب وہ یعنی ابراہیم علیہ السلام کا باپ مر گیا۔
حدیث نمبر: 1039
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَبِي مَاتَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ لَهُ: اغْسِلْهُ، وَكَفِّنْهُ وَحَنِّطْهُ، ثُمَّ ادْفِنْهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: { مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: میرا باپ نصرانی مر گیا ہے۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے غسل دو، کفن پہناؤ اور خوشبو لگا کر دفناؤ، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ آخرِ آیت تک۔
حدیث نمبر: 1040
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: مَاتَتْ أُمِّي نَصْرَانِيَّةً، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: مَاتَتْ أُمِّي نَصْرَانِيَّةً، فَقَالَ: ارْكَبْ دَابَّةً وَسِرْ أَمَامَ جِنَازَتِهَا .
مظاہر امیر خان
ابو وائل رحمہ اللہ نے کہا: میری ماں نصرانی حالت میں فوت ہو گئی، میں سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری ماں نصرانی حالت میں فوت ہو گئی ہے۔ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک سواری پر سوار ہو جاؤ اور اس کے جنازے کے آگے آگے چلو۔
حدیث نمبر: 1041
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَمَّكَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ! فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَادْفِنْهُ، وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي . قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ، وَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ أَثَرُ التُّرَابِ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ابوطالب فوت ہو گئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا گمراہ چچا فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اسے دفن کر دو اور کوئی نیا کام نہ کرنا یہاں تک کہ میرے پاس واپس آؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گیا، اسے دفن کر آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ مجھ پر مٹی کا اثر تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے کچھ دعائیں کیں، اور مجھے یہ اتنا محبوب ہوا کہ کاش میرے لیے ان دعاؤں کے بدلے زمین کی تمام چیزیں بھی ہوتیں۔
حدیث نمبر: 1042
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ، قَالَ: سَمِعْتُ السُّدِّيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ ! فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَوَارِهِ، ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي . فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا، وَكَانَ عَلِيٌّ إِذَا غَسَّلَ الْمَيِّتَ اغْتَسَلَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب ابوطالب فوت ہو گئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: آپ کا چچا، وہ بزرگ، فوت ہو گیا ہے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اسے دفن کر دو، پھر کوئی نیا کام نہ کرنا جب تک میرے پاس نہ آ جاؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے غسل دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے کچھ دعائیں کیں، اور مجھے یہ اتنا محبوب ہوا کہ کاش میرے لیے ان دعاؤں کے بدلے سرخ اور سیاہ اونٹ بھی ہوتے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب میت کو غسل دیتے تو خود بھی غسل کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1043
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ عَنِ الْأَوَّاهِ، قَالَ: هُوَ الدَّعَّاءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے "الأوَّاه" کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ دعا کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 1044
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، نَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْعُبَيْدَيْنِ لِعَبْدِ اللهِ: مَنْ نَسْأَلُ إِذَا لَمْ نَسْأَلْكَ مَا الْأَوَّاهُ ؟ قَالَ: الرَّحِيمُ .
مظاہر امیر خان
ابو العبیدین رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اگر آپ سے نہ پوچھیں تو اور کس سے پوچھیں؟ بتائیے "الأوَّاه" کیا ہے؟ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نرم دل یعنی رحم دل انسان۔