کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «عَفَا اللهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيَّ يَقُولُ: اثْنَتَانِ فَعَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِهِمَا ؛ إِذْنُهُ لِلْمُنَافِقِينَ، وَأَخْذُهُ مِنَ الْأُسَارَى - حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { عَفَا اللهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ }، وَ: { مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى } .
مظاہر امیر خان
عمرو بن میمون الاودی رحمہ اللہ نے کہا: دو چیزیں ایسی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں حالانکہ ان کا حکم نہیں ہوا تھا؛ منافقین کو اجازت دینا اور قیدیوں کو لینا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ﴾، اور ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ﴾۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ - أَوْ غَيْرِهِ - عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَهُ بِالْعَفْوِ قَبْلَ أَنْ يُعَرِّفَهُ بِالذَّنْبِ .
مظاہر امیر خان
عون رحمہ اللہ نے کہا: اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کر دیا قبل اس کے کہ ان کو گناہ سے آگاہ کرتا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ { أَسْرَى } " .
مظاہر امیر خان
حمید رحمہ اللہ «أَسْرَى» پڑھتے تھے۔