کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَسِيحُوا فِي الأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ» کا بیان
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ ؟ قَالَ: بِأَرْبَعٍ ؛ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ مُسْلِمٌ وَمُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا فِي الْحَجِّ، وَمَنْ كَانَ لَهُ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: چار باتوں کے ساتھ؛ کہ جنت میں صرف مؤمن جان ہی داخل ہو سکتی ہے، بیت اللہ کا طواف کوئی عریاں نہیں کرے گا، اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک اکٹھے حج نہیں کریں گے، اور جس کا کوئی عہد ہے تو اس کا عہد اپنی مدت تک برقرار ہے، اور جس کا کوئی عہد نہیں تو اس کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے۔