حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ وَفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَعَلَّمُوا سُورَةَ بَرَاءَةٌ، وَعَلِّمُوا نِسَاءَكُمْ سُورَةَ النُّورِ، وَحَلُّوهُنَّ الْفِضَّةَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: سورہ براءت یعنی التوبہ سیکھو اور اپنی عورتوں کو سورہ نور سکھاؤ، اور انہیں چاندی کا زیور پہناؤ۔
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: سُورَةُ التَّوْبَةِ ؟ قَالَ: بَلْ هِيَ الْفَاضِحَةُ، مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّى ظَنُّوا أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: سورہ توبہ؟ تو انہوں نے فرمایا: بلکہ یہ فاضحہ یعنی رسوا کرنے والی ہے، اس میں مسلسل «اور ان میں سے» اور «اور ان میں سے» نازل ہوتا رہا یہاں تک کہ لوگوں نے گمان کر لیا کہ ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہے گا مگر اس کا ذکر اس میں آ جائے گا۔