کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: تفسیر سورۃ الأنفال باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلهِ وَالرَّسُولِ» کا بیان
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ بِهَا الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللهُ اتَّبَعَتْهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى النَّهْبِ وَالْعَسْكَرِ . ¤ فَلَمَّا رَجَعَ الَّذِينَ طَلَبُوا الْعَدُوَّ، قَالُوا: لَنَا النَّفَلُ، نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهَزَمَهُمْ . وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، بَلْ هُوَ لَنَا ; نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَالَهُ مِنَ الْعَدُوِّ غِرَّةٌ ! وَقَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى النَّهْبِ وَالْعَسْكَرِ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، بَلْ هُوَ لَنَا ؛ نَحْنُ اسْتَوْلَيْنَا عَلَيْهِ وَأَحْرَزْنَاهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے نکلے اور دشمن سے مقابلہ ہوا، جب اللہ عزوجل نے دشمن کو شکست دی تو مسلمانوں کا ایک گروہ دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں قتل کرنے لگا، ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئی، اور ایک جماعت مالِ غنیمت اور لشکر پر قابض ہو گئی، پھر جب دشمن کا پیچھا کرنے والے واپس آئے تو کہنے لگے: مالِ غنیمت پر ہمارا حق ہے، ہم نے دشمن کا تعاقب کیا اور اللہ عزوجل نے ہمارے ہاتھوں ان کو بھگایا اور شکست دی، اور جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دیا تھا، انہوں نے کہا: تمہیں ہم پر کوئی ترجیح حاصل نہیں، بلکہ مالِ غنیمت ہمارا ہے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی کہ دشمن کی کوئی غفلت ان پر اثر انداز نہ ہو، اور جنہوں نے مالِ غنیمت پر قبضہ کیا تھا، انہوں نے کہا: تمہیں ہم پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، بلکہ یہ مال ہمارا ہے، ہم نے اس پر قبضہ کیا اور اسے محفوظ بنایا۔
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَتَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَأَخَذْتُ سَيْفَهُ، وَكَانَ يُسَمَّى ذَا الْكَتِيفَةِ، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَاطْرَحْهُ فِي الْقَبَضِ . فَذَهَبْتُ وَبِي مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَتْلِ أَخِي وَأَخْذِ سَلَبِي، فَمَا جَاوَزْتُهُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَخُذْ سَيْفَكَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب بدر کا دن آیا تو میں نے سعید بن العاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے لی، جسے ذو الکتیفہ کہا جاتا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اسے مالِ غنیمت میں ڈال دو، تو میں چلا اور میرے دل میں وہ کیفیت تھی جسے صرف اللہ عزوجل جانتا ہے، اپنے بھائی کے قتل اور مالِ غنیمت کے چھن جانے کی وجہ سے، میں ابھی زیادہ دور نہ گیا تھا کہ سورہ الانفال نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اپنی تلوار لے لو۔
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ بَدْرٍ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: سورہ الانفال کے بارے میں؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ اہلِ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔