کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» کا بیان
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا الْعَوَّامُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا } - قَالَ: فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ کے بارے میں کہا: یہ حکم جمعہ کے دن خطبہ سننے کے بارے میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 976
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 976، 977، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2930، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4056، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8462، 8464، 8468، 8469»
حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: فِي الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ کا حکم نماز اور خطبہ دونوں کے بارے میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 977
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن لذاته لما تقدم عن حال عبد الرحمن بن زياد، وهو صحيح لغيره لأنه توبع.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 976، 977، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2930، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4056، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8462، 8464، 8468، 8469»
حدیث نمبر: 978
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانُوا يَتَلَقَّفُونَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ شَيْئًا قَرَؤُوا مَعَهُ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْأَعْرَافِ: { وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا } .
مظاہر امیر خان
محمد بن کعب رحمہ اللہ نے کہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی قرآن پڑھتے تو ساتھ ساتھ پڑھنے لگتے، یہاں تک کہ سورہ اعراف میں یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 978
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف أبي معشر وإرساله، فإن محمد بن كعب تابعي، وهو حسن لغيره إلى محمد بن كعب كما سيأتي، فيبقى ضعفه لأجل الإرسال.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 979
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَوْنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ: { وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا } - فِي الصَّلَاةِ ؛ إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْزَلَهَا الْقَصَّاصُ فِي الْقَصَصِ .
مظاہر امیر خان
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ نے کہا: اللہ عزوجل نے یہ آیت ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ نماز کے بارے میں نازل فرمائی، کیونکہ لوگ نماز میں باتیں کرتے تھے، اور قصہ گو حضرات نے اس کو قصے سنانے پر لاگو کر لیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 979
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح إلى معاوية.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 979، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2932»
حدیث نمبر: 980
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَوْنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ أَقْرَأُ فِي مُصْحَفٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: اقْرَأْ فِي مُصْحَفِكَ . قُلْتُ: أَعُودُ مَرِيضًا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: عُدْ مَرِيضَكَ . قُلْتُ: أُشَيِّعُ جِنَازَةً أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: شَيِّعْ جِنَازَتَكَ . قُلْتُ: اسْتَعَانَ بِي رَجُلٌ عَلَى حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَذْهَبَ مَعَهُ أَوْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: اذْهَبْ إِلَى حَاجَةِ أَخِيكَ - حَتَّى جَعَلَهُ خَيْرَ مَجَالِسِ الْفَرَاغِ .
مظاہر امیر خان
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا مصحف میں قرآن پڑھنا آپ کو زیادہ پسند ہے یا کسی قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ انہوں نے فرمایا: اپنے مصحف میں قرآن پڑھو۔ میں نے پوچھا: کسی مریض کی عیادت کرنا زیادہ پسند ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: مریض کی عیادت کرو۔ میں نے کہا: جنازے کے ساتھ جانا زیادہ بہتر ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: جنازے کے ساتھ جاؤ۔ میں نے کہا: اگر کوئی آدمی مجھ سے کسی ضرورت میں مدد مانگے تو اس کے ساتھ جانا بہتر ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: اپنے بھائی کی ضرورت میں اس کے ساتھ جاؤ، یہاں تک کہ حسن رحمہ اللہ نے بھائی کی حاجت میں مدد کو فرصت کے اوقات کی بہترین مجلس قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 980
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَوْنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ يَقُولُ: لَتَاجِرٌ يَجْلِبُ إِلَيْنَا الطَّعَامَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ قَاصٍّ بَيْنَ اثْنَيْنِ . قَالَ: وَسَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلنِّسَاءِ: { وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ }، وَالْقُصَّاصُ يَأْمُرُونَهُنَّ بِالْخُرُوجِ .
مظاہر امیر خان
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ نے کہا: ایک تاجر جو ہمارے پاس کھانے پینے کا سامان لاتا ہے، مجھے دو آدمیوں کے درمیان بیٹھ کر قصہ گو بننے والے سے زیادہ پسند ہے، اور میں نے معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل نے عورتوں سے فرمایا ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ﴾ یعنی اپنے گھروں میں ٹھہری رہو، مگر قصہ گو انہیں گھروں سے نکلنے کا حکم دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 981
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»