کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا» کا بیان
حدیث نمبر: 972
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: (حَمَلَتْ حَمْلَا خَفِيفَا فَاسْتَمَرَّتْ بِهِ) .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو یوں پڑھتے تھے: «حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَاسْتَمَرَّتْ بِهِ»۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 972
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: نَا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ * فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا } - قَالَ: إِنَّ حَوَّاءَ لَمَّا حَمَلَتْ أَتَاهَا إِبْلِيسُ فَقَالَ: إِنِّي أَنَا الَّذِي أَخْرَجْتُكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَإِنْ لَمْ تُطِيعِينِي لَأَجْعَلَنَّ لِابْنِكِ قَرْنَيْنِ فَلَيَشُقَّنَّ بَطْنَكِ أَوْ لَأُخْرِجَنَّهُ مَيِّتًا ! فَقَضَى أَنْ خَرَجَ مَيِّتًا . ¤ ثُمَّ حَمَلَتِ الثَّانِي، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَتْ لَهُ حَوَّاءُ: أَخْبِرْنِي مَا الَّذِي تُرِيدُ أَنْ أُطِيعَكَ فِيهِ ؟ قَالَ: سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ - فَفَعَلَتْ، فَخَرَجَ بِإِذْنِ اللهِ سَوِيًّا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: { جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا }، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: لَمْ يَخُصَّ بِهَا آدَمَ، وَلَكِنْ جَعَلَهَا عَامَّةً لِجَمِيعِ النَّاسِ بَعْدَ آدَمَ . ¤
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ * فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ کے بارے میں مروی ہے کہ جب سیدہ حوا علیہا السلام حاملہ ہوئیں تو ابلیس ان کے پاس آیا اور کہا: میں ہی وہ ہوں جس نے تم دونوں کو جنت سے نکلوایا، اگر میری اطاعت نہ کی تو میں تیرے بچے کو دو سینگوں والا بنا دوں گا کہ وہ تیرا پیٹ چاک کر دے گا یا مردہ پیدا ہوگا، چنانچہ بچہ مردہ پیدا ہوا، پھر دوبارہ حمل ٹھہرا تو ابلیس نے پھر یہی کہا، سیدہ حوا علیہا السلام نے پوچھا: کس بات میں تیری اطاعت کروں؟ اس نے کہا: بچے کا نام عبد الحارث رکھ دینا، پس انہوں نے ایسا کیا تو بچہ صحیح سلامت پیدا ہوا، یہی اللہ عزوجل کا فرمان ہے ﴿جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾، اور عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ حکم صرف سیدنا آدم علیہ السلام کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ان کے بعد تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 973
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال خصيف، وسيأتي الكلام عن متنه.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»