کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا» کا بیان
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: نَا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ } - قَالَ: أَخَذَ مِنَ النَّبِيِّينَ كُلِّهِمْ قَبْلَ أَنْ يُخْلَقُوا . قَالَ: أَخَذَ النُّطَفَ مِنْ صُلْبِ آدَمَ، فَرَأَى مِنْهَا نُطْفَةً تَتَلَأْلَأُ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ بَنِيَّ هَذَا ؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ . قَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ جَعَلْتَ لَهُ ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَقْلَلْتَ لَهُ، قَالَ: فَأَعْطِهِ مِنْ سِنِينِكَ، فَإِنِّي جَعَلْتُ لَكَ أَلْفَ سَنَةٍ - فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً . ¤ فَلَمَّا حَضَرَ أَجَلُ آدَمَ قَالَ: رَبِّ، أَلَيْسَ جَعَلْتَ لِي أَلْفَ سَنَةٍ ؟ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَيْسَ قَدْ جَعَلْتَ مِنْ سِنِينِكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً لِدَاوُدَ ؟ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ وَالْبَيِّنَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: اللہ عزوجل نے تمام انبیاء سے ان کی پیدائش سے پہلے ہی عہد لیا۔ فرمایا: اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کی پشت سے نطفے نکالے، تو آدم علیہ السلام نے ان میں ایک چمکدار نطفہ دیکھا، کہنے لگے: اے میرے رب! یہ میرے بیٹوں میں سے کون ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا داؤد ہے۔ آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب! اس کے لیے کتنی عمر رکھی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: اے رب! یہ تو تھوڑی ہے، میری عمر میں سے اسے دے دے، کیونکہ میں نے تیرے لیے ایک ہزار سال کی عمر رکھی ہے۔ تو آدم علیہ السلام نے اپنی عمر میں سے چالیس سال داؤد علیہ السلام کو عطا کر دیے۔ پھر جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے: اے رب! کیا تو نے میرے لیے ایک ہزار سال کی عمر نہیں رکھی تھی؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو نے داؤد کو اپنی عمر میں سے چالیس سال نہیں دیے تھے؟ تب اللہ عزوجل نے تحریر، گواہوں اور دلیل کا حکم جاری فرمایا۔
حدیث نمبر: 968
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شَيْبَةَ بْنِ نِصَاحٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ أَكْرَمَهُ كَرَامَةً لَمْ يُكْرِمْهَا أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، أَرَاهُ مَنْ هُوَ كَائِنٌ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ يَكُنْ مِمَّا أَرَاهُ اللهُ إِيَّاهُ يَكُنْ، فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَفْعَلَهُ .
مظاہر امیر خان
میں نے سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے عزل یعنی جماع کے دوران منی کو باہر نکالنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کو ایسی عزت دی جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی، اور ان کو ان کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والے تمام لوگوں کو دکھایا۔ پھر فرمایا: جو کچھ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو دکھایا ہے، وہ ضرور ہو کر رہے گا، لہٰذا اگر تم عزل نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نَا رَبِيعَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، إِنْ تَكُنْ مِمَّا أَخَذَ اللهُ مِنْهَا الْمِيثَاقَ فَكَانَتْ عَلَى صَخْرَةٍ لَنَفَخَ فِيهَا الرُّوحَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ سے عزل یعنی ہمبستری کے وقت منی کو باہر نکالنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر وہ چیز جس سے اللہ عزوجل نے میثاق لیا ہے ہو، تو اگر وہ کسی پتھر پر بھی ہو تو اللہ عزوجل اس میں روح پھونک دے گا۔