کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا» کا بیان
حدیث نمبر: 948
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: { حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ } قَالَ: زَوْجُ النَّاقَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد اونٹ کی مادہ کا شوہر ہے۔
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ (حَتَّى يَلِجَ الْجُمَّلُ)، قَالَ: حِبَالُ السُّفُنِ هَذِهِ الْقُلُوسُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿حَتَّى يَلِجَ الْجُمَّلُ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد کشتیوں کے رسے یعنی حبال السفن ہیں، یعنی یہ وہ رسے ہیں جو کشتیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 950
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ يَقْرَأُ (حَتَّى يَلِجَ الْجُمَّلُ) ؛ قَالَ: حِبَالُ السُّفُنِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿حَتَّى يَلِجَ الْجُمَّلُ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد کشتیوں کے رسے یعنی حبال السفن ہیں۔
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: زَوْجُ النَّاقَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «زَوْجُ النَّاقَةِ» کا مطلب اونٹ کی مادہ کا شوہر ہے۔
حدیث نمبر: 952
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ (الْجُمَّلُ) .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «الْجُمَّلُ» کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد اونٹ ہے۔
حدیث نمبر: 953
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عُمَرُ بْنُ سَالِمٍ الْأَفْطَسُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ (الْجُمَّلُ) يَعْنِي حَبْلَ سَفِينَةٍ غَلِيظًا .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے «الْجُمَّلُ» کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد کشتی کا موٹا رسہ یعنی حبل سفینہ ہے۔