کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «هَلْ يَنْظُرُونَ إِلا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ» کا بیان
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَهُ هَذِهِ الْآيَةَ (يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسٌ إِيمَانُهَا) فَلَمْ يُغَيِّرْ، وَكَانَ لَا يُغَيِّرُ عَلَى أَحَدٍ قِرَاءَةً يَقْرَؤُهَا، ثُمَّ قَالَ هُوَ: { يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ } . ¤ فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: أَحْسَبُ صَاحِبَكُمْ قَدْ بَلَغَهُ أَمْرٌ أَوْ سَمِعَ أَنَّ مَنْ كَفَرَ بِحَرْفٍ مِنْهُ فَقَدْ كَفَرَ بِهِ كُلِّهِ .
مظاہر امیر خان
ابو العالیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان کے سامنے یہ آیت اس طرح پڑھی: «يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسٌ إِيمَانُهَا» تو انہوں نے اس کی قراءت پر کوئی نکیر نہیں کی، کیونکہ وہ کسی قاری کی قراءت پر نکیر نہیں کرتے تھے۔ پھر خود ابو العالیہ نے اس آیت کو اس طرح پڑھا: ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ﴾۔ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: مجھے گمان ہے کہ تمہارے ساتھی کو یہ بات پہنچی ہوگی یا اس نے یہ سن رکھا ہوگا کہ جو قرآن کے کسی ایک حرف کا انکار کرے، گویا اس نے پورے قرآن کا انکار کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 936
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 937
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: أَلَا هَلْ يَسْمَعُونَ أَنَّ التَّوْبَةَ مَبْسُوطَةٌ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا . ؟
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سن لو! کیا وہ سنتے نہیں کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ کر جائے؟
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 937
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف للانقطاع بين أشعث وعبد الله بن مسعود
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 937، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8937»
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا } - قَالَ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 938
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال خلف وليث، ولكنهما لم ينفردا به، بل هو صحيح عن مجاهد.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 939
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: { يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ } - قَالَ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 939
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن لذاته وهو صحيح لغيره؛ لأن عبد الرحمن بن زياد لم ينفرد به.
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 3901، 8733، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 939، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4498، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38438، 38753، 38756، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 9019، 9020»
حدیث نمبر: 940
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ لِي: مَا جَاءَ بِكَ ؟ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ بَلَغَنِي: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَفْعَلُ . ¤ فَقُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِيهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا إِذَا سَافَرْنَا أُمِرْنَا أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ . ¤ فَقُلْتُ: هَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهَوَى شَيْئًا ؟ فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ كَانَ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ أَعْرَابِيٌّ جِلْفٌ جَافٍ، فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ ! فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَهْ ؛ فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا ! فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَحْوٍ مِنْ صَوْتِهِ: هَاؤُمْ، أَوْ: هَاؤُ . فَقَالَ لَهُ: الرَّجُلُ يُحِبُّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقُ بِهِمْ ؟ قَالَ: هُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ . ¤ قَالَ زِرٌّ: فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى حَدَّثَنِي أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا عَرْضُهُ سَبْعُونَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: { يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ } إِلَى قَوْلِهِ: { إِنَّا مُنْتَظِرُونَ } .
مظاہر امیر خان
صفوان بن عسال مرادی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب میں علم کی طلب میں آیا تو انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اللہ کے فرشتے طالب علم کے لیے اپنی پروں کو پھیلاتے ہیں اس کی خوشی میں جو وہ کرتا ہے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسح على الخفین یعنی پاؤں کی جوتیوں پر مسح کرنے کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، جب ہم سفر میں ہوتے تو ہمیں حکم دیا جاتا کہ ہم اپنی جوتیاں تین دن تک نہ نکالیں سوائے جنابت، پیشاب اور گندے پانی کے لیے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہَوَى یعنی خواہشات کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اعرابی نے بلند آواز سے پکارا: یا محمد! تو لوگوں نے اس سے کہا: خاموش رہو! تمہیں اس بات سے روکا گیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی کو آہستہ آواز میں جواب دیا: ہاؤُم یا ہاؤُ۔ پھر انہوں نے کہا: یہ شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن وہ ان کے ساتھ نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جس کے ساتھ محبت کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ ہوگا۔ زر نے مزید کہا کہ صفوان بن عسال نے مجھے بتایا کہ اللہ عزوجل نے مغرب میں توبہ کے لیے ایک دروازہ کھولا ہے جس کی چوڑائی ستر سال ہے، یہ دروازہ قیامت تک کھلا رہے گا جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو جائے۔ اور یہ اللہ عزوجل کے فرمان ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ﴾ کے بارے میں ہے، جیسے اللہ عزوجل فرماتا ہے ﴿إِنَّا مُنْتَظِرُونَ﴾۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 940
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن لذاته لما تقدم عن حال عاصم، وهو صحيح لغيره لأنه لم ينفرد به كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 4، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 17، 193، 196، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 85، 562، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 339، 340، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 126، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 131، 144، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 226، 478، 4070، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 940، والدارقطني فى (سننه) برقم: 480، 761، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18375، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1879، 26636، والحميدي فى (مسنده) برقم: 905»