کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَ جَنَّاتٍ مَعْرُوشَاتٍ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ } - قَالَ: عِنْدَ الزَّرْعِ يُعْطِي الْقَبْصَ، وَعِنْدَ الْحَصَادِ يُعْطِي الْقَبْضَ، وَيَتْرُكُهُمْ يَتَّبِعُونَ آثَارَ الصِّرَامِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ کے بارے میں فرمایا: جب کھیتی تیار ہو تو کسان کچھ خوشے بطور حق دے، اور جب فصل کاٹے تو کچھ مقدار بطور حق دے، اور انہیں اجازت دے کہ وہ کاٹنے کے بعد گرے ہوئے دانے چن لیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ } - قَالَ: إِذَا حَصَدْتَ فَحَضَرَكَ الْمَسَاكِينُ فَاطْرَحْ لَهُمْ مِنَ السُّنْبُلِ، وَإِذَا طَيَّبْتَهُ وَكَدَسْتَهُ وَحَضَرَكَ الْمَسَاكِينُ فَاطْرَحْ لَهُمْ مِنْهُ، وَإِذَا دُسْتَهُ وَذَرَيْتَهُ وَحَضَرَكَ الْمَسَاكِينُ فَاطْرَحْ لَهُمْ مِنْهُ، وَإِذَا ذَرَيْتَهُ وَجَمَعْتَهُ وَعَرَفْتَ كَيْلَهُ فَاعْزِلْ زَكَاتَهُ، وَإِذَا بَلَغَ النَّخْلُ فَحَضَرَكَ الْمَسَاكِينُ فَاطْرَحْ لَهُمْ مِنَ الثَّفَارِيقِ وَالْبُسْرِ، وَإِذَا جَذَذْتَهُ فَحَضَرَكَ الْمَسَاكِينُ فَاطْرَحْ لَهُمْ مِنْهُ، وَإِذَا جَمَعْتَهُ وَعَرَفْتَ كَيْلَهُ فَاعْزِلْ زَكَاتَهُ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ کے بارے میں فرمایا: جب تم فصل کاٹو اور مسکین حاضر ہوں تو ان کے لیے خوشے پھینکو، اور جب فصل صاف کر کے ڈھیری بناؤ اور مسکین حاضر ہوں تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نکالو، اور جب دانے جھاڑ کر چھان لو اور مسکین حاضر ہوں تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نکالو، اور جب دانے چھان کر ان کا پیمانہ مقرر کرو تو اس کی زکوٰۃ الگ کرو، اور جب کھجور کے خوشے تیار ہو جائیں اور مسکین حاضر ہوں تو ان کے لیے تھوڑے تھوڑے خوشے اور کچھ کچی کھجوریں پھینکو، اور جب کھجوریں کاٹو اور مسکین حاضر ہوں تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نکالو، اور جب کھجوریں جمع کر کے ان کا پیمانہ معلوم کرلو تو اس کی زکوٰۃ الگ کر دو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ حَصَادِ اللَّيْلِ وَجِدَادِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت فصل کاٹنے اور کھجوریں توڑنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ } - قَالَ: سِوَى الزَّكَاةِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہ زکوٰۃ کے علاوہ ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ .
مظاہر امیر خان
عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی ایک حق ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ } - قَالَ: نَسَخَتْهَا الزَّكَاةُ الْعُشْرُ وَنِصْفُ الْعُشْرِ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس آیت کو زکوٰۃ یعنی عشر اور نصف عشر یعنی آدھا عشر نے منسوخ کر دیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ } - قَالَ: الْعُشْرُ وَنِصْفُ الْعُشْرِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد عشر اور نصف عشر یعنی آدھا عشر ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ } - قَالَ: شَيْءٌ يَسِيرٌ سِوَى الزَّكَاةِ الْمَفْرُوضَةِ، وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: هِيَ الزَّكَاةُ الْمَفْرُوضَةُ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد زکوٰۃ فرض شدہ کے علاوہ کچھ تھوڑا سا مال دینا ہے، اور سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ فرض زکوٰۃ ہی مراد ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَتَصَدَّقَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ صدقہ نہ کرے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِقَدْرِ مَا يَكْفِي فُقَرَاءَهُمْ، فَإِنْ جَاعُوا أَوْ عَرُوا أَوْ جَهِدُوا فَبِمَنْعِ الْأَغْنِيَاءِ، وَحَقٌّ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُحَاسِبَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُعَذِّبَهُمْ عَلَيْهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: بے شک اللہ عزوجل نے مالداروں پر ان کے مالوں میں اتنا حق فرض کیا ہے جو ان کے فقراء کی کفالت کے لیے کافی ہو، پس اگر فقراء بھوکے رہیں، ننگے ہوں یا مشقت میں پڑیں تو یہ مالداروں کی جانب سے حق روکنے کی وجہ سے ہے، اور اللہ عزوجل پر لازم ہے کہ قیامت کے دن ان مالداروں کا حساب لے اور انہیں اس پر عذاب دے۔