کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ» کا بیان
حدیث نمبر: 918
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مِسْوَرٍ، قَالَ: وَكَانَ مِنْ وَلَدِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: { فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ } فَقَالُوا: فَهَلْ لِذَلِكَ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ ؛ إِذَا دَخَلَ النُّورُ الْقَلْبَ انْفَسَحَ وَانْشَرَحَ . فَقَالُوا: فَهَلْ لِذَلِكَ مَنْ عِلْمٍ يُعْرَفُ بِهِ ؟ قَالَ: نَعَمِ، الْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ، وَالتَّجَافِي عَنْ دَارِ الْغُرُورِ، وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ .
مظاہر امیر خان
عبدالمہید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ، جو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تھے، بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا اس کے لیے کوئی علامت ہے جس سے اسے پہچانا جا سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب نور دل میں داخل ہوتا ہے تو دل کشادہ اور منور ہو جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اس کی کوئی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جا سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، دائمی ٹھکانے یعنی آخرت کی طرف رجوع، دھوکے کے گھر سے یعنی دوریہ سے دعا، اور موت کے نزول سے پہلے موت کے لیے تیاری۔۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 918
درجۂ حدیث محدثین: هو حديث موضوع؛ لإعضاله، ولما رمي به عبد الله بن المسور من وضع الحديث
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 7958، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 918، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 35455، 35456»
قال الدارقطني: الصواب عن عمرو بن مرة عن أبي جعفر عبد الله بن المسور مرسلا، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (5 / 188)