کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَا لَكُمْ أَلا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 910
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ يَقْرَأُ: { وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ } .
مظاہر امیر خان
عطیہ عوفی رحمہ اللہ اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے: ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ﴾ یعنی اور اللہ نے تم پر جو چیزیں حرام کی ہیں انہیں تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 910
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن لذاته عن عطية، ولكنها قراءة غير معروفة
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 911
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّ بِالْجَزَّارِينَ فَقَالَ: مَنْ يَذْبَحُ لَكُمْ ؟ فَقَالُوا: هَذَا، فَقَالَ: أَنْتَ تَذْبَحُ لِهَؤُلَاءِ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ كَذَا وَكَذَا - فَلَمْ يَدْرِ، فَضَرَبَهُ وَأَخْرَجَهُ مِنَ السُّوقِ، وَضَرَبَ الْجَزَّارِينَ وَقَالَ: يَذْبَحُ لَكُمْ مِثْلُ هَذَا وَاللهُ يَقُولُ: { وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ } . !
مظاہر امیر خان
قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قصابوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: تمہارے لیے کون ذبح کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ شخص۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تم ان کے لیے ذبح کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے فلاں فلاں نماز کے بارے میں بتاؤ۔ وہ نہ بتا سکا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مارا اور بازار سے نکال دیا اور قصابوں کو بھی مارا اور فرمایا: تمہارے لیے ایسا شخص ذبح کرے گا؟ حالانکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ﴾ یعنی اور اس چیز میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 911
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف للانقطاع بين القاسم وعمر رضي الله عنه.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 911، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8558»
حدیث نمبر: 912
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَذْبَحُ فَيَنْسَى أَنْ يُسَمِّيَ، قَالَ: كَرِهَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: إِنَّهُ حَرَامٌ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو انہوں نے اسے ناپسند فرمایا، لیکن یہ نہیں کہا کہ وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 912
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 912، 913، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4804، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8540»
حدیث نمبر: 913
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَذْبَحُ فَيَنْسَى أَنْ يُسَمِّيَ، قَالَ: يَأْكُلُ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو انہوں نے فرمایا: وہ گوشت کھا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 913
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 912، 913، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4804، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8540»
حدیث نمبر: 914
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَنْ يَذْبَحُ وَيَنْسَى التَّسْمِيَةَ، قَالَ: الْمُسْلِمُ فِيهِ اسْمُ اللهِ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ التَّسْمِيَةَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو مسلمان ذبح کرتے وقت تسمیہ یعنی اللہ کا نام لینا بھول جائے تو فرمایا: مسلمان پر اللہ کا نام ہوتا ہے، چاہے وہ تسمیہ ذکر نہ کرے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 914
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 7667، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 914، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18957، 18958، 18959، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4805، 4806، 4808، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2319، وأخرجه عبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8541، 8548»
قال ابن حجر: سنده صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 538)
حدیث نمبر: 915
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ ذَبَحَ فَنَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَلْيَأْكُلْ، وَلَا يَدَعْهُ لِلشَّيْطَانِ إِذَا ذَبَحَ عَلَى الْفِطْرَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو شخص ذبح کرے اور اللہ کا نام لینا بھول جائے تو وہ اللہ عزوجل کا نام لے اور کھالے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے، بشرطیکہ اس نے فطرت یعنی اسلامی طریقے پر ذبح کیا ہو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 915
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد، وهو صحيح لغيره بالطريق السابق
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 915، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18960، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8538»
حدیث نمبر: 916
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ وَالَانَ مَرَّ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَى الدَّارِ، قَالَ: وَشَاةٌ مَذْبُوحَةٌ، فَقَالَ لِنِسْوَةٍ حَوْلَهَا: مَنْ ذَبَحَهَا ؟ فَقُلْنَ: ذَبَحَهَا فُلَانٌ غُلَامُكَ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا يُصَلِّي غُلَامِي ! فَقُلْنَ: وَلَكِنْ عَلَّمْنَاهُ فَسَمَّى، فَرَجَعْتُ كَمَا أَنَا فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَأَنْبَأْتُهُ بِتَعْلِيمِ النِّسْوَةِ إِيَّاهُ التَّسْمِيَةَ، فَقَالَ: كُلْ .
مظاہر امیر خان
مالک بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے خچر پر سوار ہو کر چلا جا رہا تھا کہ ایک گھر کے قریب پہنچا، وہاں ایک ذبح شدہ بکری تھی۔ تو اس کے اردگرد عورتوں سے پوچھا: اسے کس نے ذبح کیا؟ انہوں نے کہا: تمہارے غلام نے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا غلام تو نماز نہیں پڑھتا! عورتوں نے کہا: ہم نے اسے سکھایا تھا اور اس نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا تھا۔ تو میں وہیں سے واپس لوٹ آیا اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عورتوں کے غلام کو تسمیہ سکھانے کا واقعہ انہیں بتایا، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھا لو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 916
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لجهالة والان وجهالة مالك بن عمير.
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 39، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 916، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8564»