کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ» کا بیان
حدیث نمبر: 899
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ { دَارَسْتَ } بِالْأَلِفِ، قَالَ: قَارَأْتَ .
مظاہر امیر خان
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے سنا کہ وہ اس آیت کو «دَارَسْتَ» الف کے ساتھ پڑھتے تھے اور فرماتے تھے: اس کا معنی ہے: تم نے پڑھا اور پڑھایا۔
حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: { دَارَسْتَ } خَاصَمْتَ وَتَلَوْتَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «دَارَسْتَ» کا مطلب ہے: تم نے جھگڑا کیا اور تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: إِنَّ صِبْيَانَنَا هَاهُنَا يَقُولُونَ: { دَارَسْتَ }، وَإِنَّمَا هِيَ { دَرَسْتَ }، وَيَقْرَؤُونَ { حَمِئَةٍ }، وَإِنَّمَا هِيَ { حَامِيَةً }، وَيَقْرَؤُونَ { وَحَرَّمَ }، وَإِنَّمَا هِيَ (حَرَامٌ)، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُخَالِفُهُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہمارے یہاں کے بچے «دَارَسْتَ» پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں «دَرَسْتَ» ہے، اور وہ «حَمِئَةٍ» پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں «حَامِيَةً» ہے، اور وہ «وَحَرَّمَ» پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں «حَرَامٌ» ہے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان تمام قراءتوں میں ان کی مخالفت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 902
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { دَارَسْتَ }، قَالَ: قَرَأْتُ وَتَعَلَّمْتُ .
مظاہر امیر خان
بنی تمیم کے ایک شخص بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان «دَارَسْتَ» کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اس کا مطلب ہے تم نے پڑھا اور سیکھا۔
حدیث نمبر: 903
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّمِيمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { دَارَسْتَ }، قَالَ: قَرَأْتَ وَتَعَلَّمْتَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان «دَارَسْتَ» کے بارے میں فرمایا: اس کا مطلب ہے تم نے پڑھا اور سیکھا۔
حدیث نمبر: 904
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَرَأْتَ، وَقَرَؤُوا عَلَيْكَ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے «دَارَسْتَ» کے بارے میں فرمایا: تم نے پڑھا اور لوگوں نے تم پر پڑھا۔
حدیث نمبر: 905
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ { دَارَسْتَ }، قَالَ: قَرَأْتَ وَتَعَلَّمْتَ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ «دَارَسْتَ» کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: اس کا مطلب ہے تم نے پڑھا اور سیکھا۔
حدیث نمبر: 906
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، قَالَ: نَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ { دَارَسْتَ }، يَقُولُ: دَارَسْتَ أَهْلَ الْكِتَابِ، قَارَأْتَهُمْ .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ «دَارَسْتَ» اس طرح پڑھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: تم نے اہلِ کتاب کے ساتھ مذاکرہ کیا اور ان سے قرآن پڑھا۔
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ - مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي بِشْرٍ .
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ سے بھی ابو بشر رحمہ اللہ کی حدیث کے مطابق یہی روایت ہے کہ «دَارَسْتَ» کا مطلب ہے: تم نے پڑھا اور سیکھا۔
حدیث نمبر: 908
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ (دَرَّسْتَ) مُشَدَّدَةً .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ اس لفظ کو «دَرَّسْتَ» تشدید کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 909
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: هِيَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللهِ (دَرَّسْتَ) .
مظاہر امیر خان
ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت ہے کہ وہ «دَرَّسْتَ» تشدید کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔