کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ» کا بیان
حدیث نمبر: 892
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الْمُسْتَوْدَعُ مَا فِي الصُّلْبِ، وَالْمُسْتَقَرُّ: مَا فِي الرَّحِمِ مِمَّا هُوَ حَيٌّ وَمِمَّا قَدْ مَاتَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «الْمُسْتَوْدَعُ» یعنی امانت رکھے جانے کی جگہ سے مراد وہ ہے جو صلب یعنی کمر میں ہوتا ہے، اور «الْمُسْتَقَرُّ» سے مراد رحم میں وہ ہے جو زندہ ہو یا جو مر چکا ہو۔
حدیث نمبر: 893
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: تَزَوَّجْ يَا سَعِيدُ ! قَالَ: قُلْتُ: مَا ذَاكَ فِي نَفْسِي الْيَوْمَ ! قَالَ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَمَا كَانَ فِي صُلْبِكَ مِنْ مُسْتَوْدَعٍ لَيَخْرُجَنَّ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: اے سعید! نکاح کرلو۔ میں نے کہا: آج میرے دل میں اس کا ارادہ نہیں۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم نے ایسا کہا ہے، تب بھی جو تمہاری صلب یعنی کمر میں بطور امانت موجود ہے وہ ضرور ظاہر ہو کر رہے گا۔
حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِذَا كَانَ أَجَلُ رَجُلٍ بِأَرْضٍ أُثْبِتَ لَهُ بِهَا حَاجَةٌ، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَجْلِهِ - قَضَى أَجَلَهُ - قُبِضَ، فَتَقُولُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبِّ، هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب کسی شخص کی موت کسی زمین میں مقدر ہو جاتی ہے تو وہاں اس کے لیے کوئی ضرورت پیدا کر دی جاتی ہے، پھر جب اس کی زندگی کی مدت پوری ہو جاتی ہے تو وہ اپنا وقت پورا کر کے وفات پا جاتا ہے، پھر قیامت کے دن وہ زمین کہے گی: اے میرے رب! یہ وہی ہے جسے تو نے میرے سپرد کیا تھا۔
حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: مُسْتَوْدَعُهَا فِي الدُّنْيَا، وَمُسْتَقَرُّهَا فِي الرَّحِمِ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مستودع یعنی امانت کی جگہ دنیا میں ہے، اور مستقر یعنی ٹھہرنے کی جگہ رحم میں ہے۔
حدیث نمبر: 896
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ بِهَا حَاجَةً .
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے اپنی قوم میں سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ عزوجل کسی بندے کی کسی زمین میں روح قبض کرنا چاہتا ہے تو وہاں اس کے لیے کوئی ضرورت پیدا فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 897
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ { فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ } .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے: ﴿فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ﴾ یعنی پس ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک امانت رکھنے کی جگہ۔
حدیث نمبر: 898
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، قَالَ: نَا عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ، عَنْ حَمَّادٍ الْمَدِينِيِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ: دَعَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ: اكْتُبْ ؛ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَى فُلَانٍ حَبْرِ تَيْمَاءَ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . فَقُلْتُ: تَبْدَؤُهُ فَتَقُولُ سَلَامٌ عَلَيْكَ ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ . ¤ اكْتُبْ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ فَحَدِّثْنِي عَنْ مُسْتَقَرٍّ وَمُسْتَوْدَعٍ، وَعَنْ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ . قَالَ: فَذَهَبْتُ بِالْكِتَابِ إِلَى الْيَهُودِيِّ فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ: مَرْحَبًا بِكِتَابِ خَلِيلِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ! فَذَهَبَ بِي إِلَى بَيْتِهِ فَفَتَحَ أَسْفَارًا لَهُ كَثِيرَةً، فَجَعَلَ يَطْرَحُ تِلْكَ الْأَسْفَارَ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ: هَذِهِ أَسْفَارٌ كَتَبَتْهَا الْيَهُودُ - حَتَّى أَخْرَجَ سِفْرَ مُوسَى، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: الْمُسْتَوْدَعُ الصُّلْبُ، وَالْمُسْتَقَرُّ الرَّحِمُ . ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: { وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ } { وَلَكُمْ فِي الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ }، قَالَ: هُوَ مُسْتَقَرُّهُ فِي الْأَرْضِ وَمُسْتَقَرُّهُ فِي الرَّحِمِ، وَمُسْتَقَرُّهُ تَحْتَ الْأَرْضِ حَتَّى يَصِيرَ إِلَى الْجَنَّةِ أَوْ إِلَى النَّارِ . ¤ ثُمَّ نَظَرَ فَقَالَ: جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ - قَالَ: سَبْعُ سَمَاوَاتٍ وَسَبْعُ أَرَضِينَ، يُلْفَقْنَ كَمَا تُلْفَقُ الثِّيَابُ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ . فَقَالَ: هَذَا عَرْضُهَا، وَلَا يَصِفُ أَحَدٌ طُولَهَا . ¤ ¤
مظاہر امیر خان
کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بلایا اور کہا: لکھو؛ اللہ کے بندے ابن عباس کی طرف سے فلاں، حبر تیماء کے نام، سلام ہو تم پر، میں اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے کہا: آپ آغاز میں سلام لکھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: بے شک اللہ ہی سلام ہے۔ پھر فرمایا: لکھو؛ سلام ہو تم پر، اما بعد! مجھے مستقر اور مستودع کے بارے میں خبر دو، اور اس جنت کے بارے میں بتاؤ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔
چنانچہ میں یہ خط لے کر اس یہودی کے پاس گیا اور اسے دیا۔ جب اس نے خط دیکھا تو کہنے لگا: مسلمانوں میں میرے خلیل یعنی دوست کا خط خوش آمدید! پھر وہ مجھے اپنے گھر لے گیا اور اپنی بہت سی کتابیں نکالنے لگا، انہیں ایک طرف پھینکتا جا رہا تھا اور ان کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نے کہا: یہ تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا: یہ یہود کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔ یہاں تک کہ اس نے تورات نکالی، اس پر نظر ڈالی اور کہا: مستودع صلب یعنی کمر ہے اور مستقر رحم ہے۔ پھر اس نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ﴾ اور ﴿وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾۔ اس نے کہا: انسان کا مستقر رحم میں ہے، پھر زمین میں ہے، اور پھر زمین کے نیچے ہے، یہاں تک کہ وہ جنت یا جہنم کی طرف منتقل ہو۔
پھر اس نے دیکھا اور کہا: جنت جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے، یعنی سات آسمان اور سات زمینیں، جو ایسے جوڑی جائیں گے جیسے کپڑے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں۔ اس نے کہا: یہ ہے اس کی چوڑائی، اور کوئی اس کی لمبائی بیان نہیں کر سکتا۔
چنانچہ میں یہ خط لے کر اس یہودی کے پاس گیا اور اسے دیا۔ جب اس نے خط دیکھا تو کہنے لگا: مسلمانوں میں میرے خلیل یعنی دوست کا خط خوش آمدید! پھر وہ مجھے اپنے گھر لے گیا اور اپنی بہت سی کتابیں نکالنے لگا، انہیں ایک طرف پھینکتا جا رہا تھا اور ان کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نے کہا: یہ تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا: یہ یہود کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔ یہاں تک کہ اس نے تورات نکالی، اس پر نظر ڈالی اور کہا: مستودع صلب یعنی کمر ہے اور مستقر رحم ہے۔ پھر اس نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ﴾ اور ﴿وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾۔ اس نے کہا: انسان کا مستقر رحم میں ہے، پھر زمین میں ہے، اور پھر زمین کے نیچے ہے، یہاں تک کہ وہ جنت یا جہنم کی طرف منتقل ہو۔
پھر اس نے دیکھا اور کہا: جنت جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے، یعنی سات آسمان اور سات زمینیں، جو ایسے جوڑی جائیں گے جیسے کپڑے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں۔ اس نے کہا: یہ ہے اس کی چوڑائی، اور کوئی اس کی لمبائی بیان نہیں کر سکتا۔