کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ» کا بیان
حدیث نمبر: 883
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي السُّدِّيُّ - وَهُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ } قَالَ: قَامَ عَلَى صَخْرَةٍ، فَفُرِّجَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْعَرْشِ وَإِلَى مَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ، ثُمَّ فُرِّجَتْ لَهُ الْأَرَضُونَ السَّبْعُ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الصَّخْرَةِ الَّتِي عَلَيْهَا الْأَرَضُونَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا } .
مظاہر امیر خان
سدی رحمہ اللہ جو کہ اسماعیل بن عبد الرحمن ہیں، اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ﴾ کے بارے میں فرماتے ہیں: سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک چٹان پر کھڑے ہوئے تو ان کے لیے ساتوں آسمان کھول دیے گئے یہاں تک کہ انہوں نے عرش اور جنت میں اپنے مقام کو دیکھ لیا، پھر ان کے لیے ساتوں زمینیں بھی کھول دی گئیں یہاں تک کہ انہوں نے اس چٹان کو بھی دیکھ لیا جس پر زمینیں قائم ہیں، یہی اللہ عزوجل کے اس فرمان کا مطلب ہے ﴿وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا﴾ یعنی اور ہم نے انہیں دنیا میں ان کا اجر عطا کیا۔
حدیث نمبر: 884
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: لَمَّا أُرِيَ إِبْرَاهِيمُ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَأَى رَجُلًا عَلَى فَاحِشَةٍ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، ثُمَّ رَأَى آخَرَ عَلَى فَاحِشَةٍ فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، ثُمَّ رَأَى آخَرَ عَلَى فَاحِشَةٍ فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: يَا إِبْرَاهِيمُ، مَهْلًا ؛ فَإِنَّكَ رَجُلٌ مُسْتَجَابٌ لَكَ، وَإِنِّي مِنْ عَبْدِي عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: إِمَّا أَنْ يَتُوبَ قَبْلَ الْمَوْتِ فَأَتُوبُ عَلَيْهِ، وَإِمَّا أَنْ أُخْرِجَ مِنْ صُلْبِهِ ذُرِّيَّةً يَذْكُرُونِي، وَإِمَّا أَنْ يَتَوَلَّى فَجَهَنَّمُ مِنْ وَرَائِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت دکھائی گئی تو انہوں نے ایک آدمی کو فحاشی پر دیکھا، تو اس پر بددعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا، پھر دوسرے کو فحاشی پر دیکھا تو اس پر بھی بددعا کی اور وہ بھی ہلاک ہو گیا، پھر تیسرے کو دیکھا تو اس پر بھی بددعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا۔ تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی: اے ابراہیم! ٹھہر جا، کیونکہ تو ایسا شخص ہے کہ تیری دعا قبول کی جاتی ہے، اور میں اپنے بندے کے ساتھ تین طریقوں سے معاملہ کرتا ہوں: یا تو وہ موت سے پہلے توبہ کر لیتا ہے تو میں اس کی توبہ قبول کر لیتا ہوں، یا میں اس کی نسل سے ایسے افراد پیدا کرتا ہوں جو میرا ذکر کرتے ہیں، یا اگر وہ کفر پر مر جائے تو جہنم اس کے پیچھے ہے۔